قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
ہر ملکیت پر زکوٰۃ نہیں۔ حنفی احکام میں قابلِ زکوٰۃ مال، نصاب اور بہت سی اقسام میں قمری سال کی شرط ہے؛ پیداوار وغیرہ کے الگ احکام ہیں۔ ذاتی استعمال کی اشیا عام طور پر مالِ تجارت جیسی نہیں۔
زکوٰۃ ہر قیمتی چیز پر نہیں، بعض خاص اموال پر لازم ہوتی ہے۔ فقہ حنفی میں نقدی، سونا، چاندی اور تجارت کا مال اہم مثالیں ہیں۔ ذاتی کپڑے اور رہائشی مکان محض قیمتی ہونے سے تجارت کا مال نہیں بنتے۔ «نصاب» مال کی مقررہ حد ہے۔ بہت سے اموال میں قمری سال کی شرط بھی دیکھی جاتی ہے؛ فصل وغیرہ کے احکام الگ ہوسکتے ہیں۔ پہلے مال کی فہرست بنائیں، پھر معلوم کریں کون سا مال زکوٰۃ والا ہے، پھر نصاب اور وقت کی شرط دیکھیں۔ قرآن انفاق اور زکوٰۃ کی اہمیت بتاتا ہے، جبکہ فقہ کی کتابیں تفصیل دیتی ہیں۔ حقیقی حساب میں تازہ قیمت اور ذاتی حالت جاننا ضروری ہے؛ استاد سے پوچھیں۔
ملکیت میں موجود اموال کی فہرست بنائیں۔
معلوم کریں کس مال پر زکوٰۃ ہے۔
متعلقہ نصاب کی شرط دیکھیں۔
جہاں شرط ہو قمری سال دیکھیں۔