قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
زکوٰۃ کے حساب میں قابلِ زکوٰۃ مال، نصاب، جہاں ضروری ہو قمری سال اور حنفی طریقے کے مطابق متعلقہ قرض دیکھتے ہیں۔ اہل نقدی پر عام شرح ڈھائی فیصد ہے؛ مستحق کی شرائط الگ ہیں۔
عام زکوٰۃ والے نقد مال اور سامانِ تجارت پر شرائط پوری ہونے کے بعد سالانہ ڈھائی فیصد کی شرح معروف ہے۔ مگر ہر رقم کو فوراً ۲٫۵ فیصد سے ضرب نہ دیں۔ پہلے زکوٰۃ والا مال، نصاب، قمری سال اور جائز منہا ہونے والی رقم معلوم کریں۔ کلاس کی آسان مثال: فرض کریں استاد نے پہلے ہی طے کردیا کہ شرائط پوری ہیں اور قابلِ زکوٰۃ خالص رقم ۴۰ ہزار روپے ہے۔ اس کا چالیسواں حصہ ایک ہزار روپے ہوگا۔ یہ صرف تعلیمی مثال ہے، کسی خاص گھر کا فتویٰ نہیں۔ حساب کے بعد مستحق کا سوال ہے۔ التوبہ ۹:۶۰ میں مستحقین کی قسمیں بیان ہیں۔ محض کسی ادارے کو رقم دینا کافی نہیں؛ یہ بھی جانچیں کہ زکوٰۃ شرعی مستحق تک پہنچے گی۔
زکوٰۃ والے مال اور جائز منہا رقم معلوم کریں۔
نصاب اور متعلقہ قمری سال دیکھیں۔
متعلقہ خالص نقد مال کا ۲٫۵ فیصد نکالیں۔
شرعی مستحق تک زکوٰۃ پہنچائیں۔