قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
عقل خدا کے وجود اور دعوائے نبوت کی صداقت پر سوال کرسکتی ہے، مگر محض مشاہدہ فرض نمازوں کی تعداد یا آخرت کی تفصیل نہیں بتاتا۔ وحی ان امور میں رہنمائی دیتی ہے؛ فہمِ وحی میں منضبط عقل ضروری ہے۔
عقل سے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ نبوت کے دعوے کی دلیل کیا ہے اور مدعی سچا ہے یا نہیں۔ مگر محض مشاہدے سے نماز کی رکعات یا آخرت کی ہر تفصیل نہیں ملتی۔ یہاں وحی رہنمائی کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن پہنچایا اور اس کے احکام کی عملی تعلیم دی؛ صحیح سنت اس رہنمائی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ کوئی شخص شرعی حکم پیش کرے تو تین سوال کریں: اصل نص ثابت ہے؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ ہمارے مسئلے پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟ نماز کا حکم جان لینا پورا طریقہ جاننے کے برابر نہیں۔ دوسری طرف پوسٹر پر لکھی ہر حدیث صحیح نہیں۔ معتبر کتاب اور اہل استاد سے تحقیق ضروری ہے۔
عقل دعوے کی دلیل پوچھتی ہے۔
وحی مشاہدے سے آگے دینی احکام بتاتی ہے۔
رسول ﷺ وحی کی تعلیم واضح فرماتے ہیں۔
منقول حدیث کی صحت جانچنی چاہیے۔