قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
اہلِ سنت کے نزدیک تقدیر انسانی جواب دہی ختم نہیں کرتی۔ اللہ کے علم و مشیت اور انسان کے اختیار و عمل میں فرق سمجھیں۔ کلامی مکاتب اس نسبت کو مختلف فنی اصطلاحات سے بیان کرتے ہیں۔
تقدیر پر ایمان کا مطلب ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادے میں ہے۔ اس سے جھوٹ، چوری یا نقل کی اجازت نہیں ملتی۔ امتحان میں تیاری کرنا، دوسرے کا جواب دیکھنا یا سچ بولنا آپ کے اختیار سے متعلق ہیں؛ ان پر جواب دہی ہوتی ہے۔ عمل سے پہلے غیب کی تقدیر ہمیں معلوم نہیں، اس لیے اسے بہانہ نہیں بنا سکتے۔ قرآن انسان کے سامنے راستہ اور شکر و ناشکری کا ذکر کرتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان کا ارادہ اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ اہلِ سنت کے علماء نے اس تعلق کی مختلف علمی توضیحات کی ہیں۔ ابھی یہ فرق سمجھیں: اللہ کا کامل علم، ہمارا محدود علم، اور ہمارے عمل کی اخلاقی ذمہ داری۔ غلطی ہو تو اسے چھوڑیں، توبہ کریں اور نقصان کی تلافی کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال جانتے ہیں۔
ہم اپنے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہیں۔
پہلے سے غیبی تقدیر معلوم نہیں۔
غلط فیصلہ توبہ اور اصلاح مانگتا ہے۔