قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
اہلِ سنت کا علمِ کلام اللہ کی صفات مانتا ہے مگر اسے مخلوق کے جسموں جیسا نہیں سمجھتا۔ نص کے معنی اور خیالی جسمانی شکل میں فرق کریں۔ بعض تعبیرات میں اختلاف ہے، تنزیہ پر اتفاق ہے۔
مسلمان اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت، حیات اور دوسری ثابت صفات پر ایمان رکھتے ہیں، مگر اللہ کو بڑے انسان کی طرح نہیں سوچتے۔ انسان نئی بات سیکھتا، تھکتا اور جگہ کا محتاج ہوتا ہے؛ ان کمزوریوں کو اللہ پر لاگو نہیں کرسکتے۔ «تنزیہ» کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مشابہ نہیں۔ بعض نصوص کی شرح میں اہلِ سنت کے علماء نے مختلف انداز اختیار کیے: کوئی الفاظ پر ایمان اور جسمانی تصور سے بچنے پر زور دیتا ہے، کوئی معنی کی ایسی شرح کرتا ہے جس سے تنزیہ باقی رہے۔ اختلاف کو درست طور پر سمجھیں۔ اصل اصول یہ ہے کہ وحی میں ثابت صفت مانیں، مگر اللہ کی جسمانی تصویر نہ بنائیں اور صفات کی غیبی کیفیت کا دعویٰ نہ کریں۔
اللہ کی صفات وحی سے معلوم ہیں۔
مخلوق کے جسم محدود اور محتاج ہیں۔
تنزیہ: اللہ مخلوق جیسا نہیں۔
اللہ کی تصویر یا جسمانی صورت نہیں بناتے۔