قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
حدوثِ عالم کا سوال یہ ہے کہ عالم حادث ہے یا ازلی۔ متکلمین تغیر اور زمانی حوادث کے منضبط مقدمات سے استدلال کرتے ہیں۔ محض تبدیلی دیکھ لینا پوری دلیل نہیں۔
«حدوثِ عالم» کا مطلب ہے کہ کائنات مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرح ازلی نہیں۔ مثال سے سمجھیں: چائے پہلے ٹھنڈی تھی، اب گرم ہے؛ درخت پہلے بیج تھا۔ تبدیلی وقت کے ساتھ ہوتی ہے۔ متکلمین تبدیلی اور نئے واقعات سے عالم کے آغاز پر دلیل قائم کرتے ہیں۔ لیکن ایک چیز کا بدلنا، پوری کائنات کے آغاز کی دلیل کے تمام مراحل خودبخود ثابت نہیں کرتا۔ دوسرے مقدمات بھی لکھنے ہوں گے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی خالقیت بتاتا ہے؛ اس کے بعد متکلمین جو مفصل عقلی دلیل بناتے ہیں اسے اصل قرآنی الفاظ سے الگ رکھیں۔ جدید علمِ کائنات ابتدائی طبیعی حالات پڑھتا ہے، تمام وجودی سوالات کا آخری فیصلہ نہیں کرتا۔
تبدیل ہونے والی چیز کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں۔
واقعہ کسی خاص وقت میں ہوتا ہے۔
پوری دلیل کے لیے ایک مشاہدہ کافی نہیں۔
نص اور بعد کا استدلال الگ ہے۔