قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
نبی ﷺ کی وفات ۱۱ھ میں ہوئی۔ صحابہ کو غم کے ساتھ اجتماعی قیادت کا مسئلہ پیش آیا۔ جانشینی کی تاریخ دلائل سے پڑھیں؛ افراد کی پوشیدہ نیتیں گھڑیں نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا وصال ۱۱ ہجری، ۶۳۲ عیسوی میں ہوا۔ صحابہ بہت غمگین ہوئے اور امت کے سامنے نئی ذمہ داری آئی: اب اجتماعی امور کی قیادت کون کرے گا؟ قرآن آل عمران ۳:۱۴۴ پہلے ہی بتا چکا تھا کہ محمد ﷺ رسول ہیں اور پہلے رسول بھی وفات پاچکے ہیں۔ اس سے ایمان پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم ملتی ہے۔ امت کی قیادت نبوت کی جگہ نہیں ہے؛ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صحابہ کو لوگوں کے حقوق، نظم اور فیصلوں کا انتظام کرنا تھا۔ تاریخی روایات میں سقیفہ کی گفتگو آتی ہے۔ ثابت خبر اور بعد کے مورخ کی تشریح الگ کریں۔ کسی صحابی کے دل کی پوشیدہ نیت خود سے نہ گھڑیں۔ پہلے واقعات کی ترتیب لکھیں، پھر قیادت اور مشورے کی ضرورت سمجھیں۔
رسول اللہ ﷺ کا وصال ۱۱ ہجری میں ہوا۔
صحابہ کو غم اور نئی فکر کا سامنا ہوا۔
امت کو ذمہ دار قیادت کی ضرورت تھی۔
تاریخی خبروں کی تحقیق ضروری ہے۔