قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
بغیر دلیل یقین سے بولنا دوسروں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ معلوم بات، استنباط اور سنی سنائی خبر الگ رکھیں۔ اپنی پھیلائی غلطی واضح طور پر درست کریں۔
ہماری بات تیزی سے دور تک پہنچ سکتی ہے۔ پورے اعتماد سے کہی بات ضروری نہیں کہ سچی بھی ہو؛ بار بار دہرانے سے افواہ حقیقت نہیں بنتی۔ الاسراء ۱۷:۳۶ بے علم بات کے پیچھے چلنے سے روکتی ہے۔ تین جملوں میں فرق رکھیں: «میں نے خود دیکھا»، «مجھے بتایا گیا» اور «میرا خیال ہے»۔ مثال: استاد پر ناانصافی کا الزام پھیل رہا ہے۔ پہلے ماخذ، پوری صورت اور کسی کو نقصان پہنچنے کا امکان جانچیں۔ اگر غلط خبر آپ نے پھیلائی تو اسی گروپ میں واضح اصلاح اور معذرت ضروری ہوسکتی ہے۔ سنگین خطرے کی خبر کو گپ شپ نہ سمجھیں؛ ذمہ دار بڑے کو نجی طور پر بتائیں، سب کے سامنے نہ پھیلائیں۔ سچائی میں اپنی غلطی ماننا بھی شامل ہے۔
دیکھی اور سنی بات الگ رکھیں۔
خبر بھیجنے سے پہلے ماخذ جانچیں۔
غلط خبر جہاں پھیلی وہیں اصلاح کریں۔
سنگین خطرہ محفوظ نجی ذریعے سے بتائیں۔