باب التيمم
ومن لم يجد الماء وهو مسافر أو خارج المصر بينه وبين المصر نحو الميل أو أكثر
أو كان يجد الماء إلا أنه مريض فخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو خاف الجنب إن غسل بالماء أن يقتله البرد أو يمرضه فإنه يتيمم بالصعيدحنفی فقہ
باب تیمم
باب التیمم۔ جو شخص سفر میں پانی نہ پائے، یا شہر سے باہر ہو اور شہر سے تقریباً ایک میل یا زیادہ دور ہو، وہ تیمم کر سکتا ہے۔ اسی طرح پانی موجود ہو لیکن بیماری بڑھنے کا خوف ہو، یا جنبی کو سردی میں غسل سے جان یا بیماری کا اندیشہ ہو تو وہ صعید سے تیمم کرے۔
والتيمم ضربتان:
يمسح بإحداهما وجهه وبالأخرى يديه إلى المرفقين والتيمم من الجنابة والحدث سواءتیمم دو ضربوں سے ہوتا ہے: ایک سے چہرہ اور دوسری سے دونوں ہاتھ کہنیوں تک مسح کیے جائیں۔ جنابت اور حدث دونوں کے لیے تیمم کا طریقہ ایک ہے۔
ويجوز التيمم عند أبي حنيفة ومحمد بكل ما كان من جنس الأرض كالتراب والرمل والحجر والجص والنورة والكحل والزرنيخ
وقال أبو يوسف رحمه الله: لا يجوز إلا بالتراب والرمل خاصةامام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز، جیسے مٹی، ریت، پتھر، جص، چونا، سرمہ اور زرنیخ سے تیمم درست ہے۔ امام ابو یوسفؒ کے نزدیک صرف مٹی اور ریت سے درست ہے۔
والنية فرض في التيمم مستحبة في الوضوء
وينقض التيمم كل شيء ينقض الوضوء وينقضه أيضا رؤية الماء إذا قدر على
استعماله ولا يجوز التيمم إلا بصعيد طاهرتیمم میں نیت فرض اور وضو میں مستحب ہے۔ وضو توڑنے والی ہر چیز تیمم بھی توڑتی ہے، اور پانی نظر آ جائے اور اسے استعمال کرنے پر قدرت ہو تو تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔ تیمم صرف پاک صعید سے درست ہے۔
ويستحب لمن لا يجد الماء وهو يرجو أن يجده في آخر الوقت أن يؤخر الصلاة إلى آخر الوقت فإن وجد الماء توضأ به وصلى وإلا تيمم
ويصلي بتيممه ما شاء من الفرائض والنوافلجس شخص کو پانی نہ ملے مگر امید ہو کہ آخر وقت میں مل جائے گا، اس کے لیے نماز کو آخر وقت تک مؤخر کرنا مستحب ہے۔ پانی مل جائے تو وضو کرکے نماز پڑھے، ورنہ تیمم کرے۔ ایک تیمم سے جتنی چاہے فرض اور نفل نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
ويجوز التيمم للصحيح في المصر إذا حضرت جنازة والولي غيره فخاف إن اشتغل بالطهارة أن تفوته الصلاة فإنه يتيمم ويصلي وكذلك من حضر العيد فخاف إن اشتغل بالطهارة أن تفوته صلاة العيدين فإنه يتيمم ويصليشہر میں موجود صحت مند شخص کے سامنے نماز جنازہ ہو اور ولی کوئی دوسرا ہو، اور طہارت میں مشغول ہونے سے جنازہ فوت ہونے کا خوف ہو تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح عید کی نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم جائز ہے۔
وإن خاف من شهد الجمعة إن اشتغل بالطهارة أن تفوته صلاة الجمعة لم يتيمم ولكنه يتوضأ فإن أدرك الجمعة صلاها وإلا صلى الظهر أربعا وكذلك إذا ضاق الوقت فخشي إن توضأ قات الوقت لم يتيمم ولكنه يتوضأ ويصلي فائتةاگر جمعہ فوت ہونے کا خوف ہو تو تیمم نہیں کرے گا بلکہ وضو کرے گا؛ جمعہ مل جائے تو جمعہ پڑھے، ورنہ چار رکعت ظہر پڑھے۔ اسی طرح اگر وقت اتنا تنگ ہو کہ وضو کرنے سے نماز کا وقت نکل جائے، تب بھی تیمم نہیں کرے گا بلکہ وضو کرکے نماز قضا پڑھے گا۔
والمسافر إذا نسي الماء في رحله فتيمم وصلى ثم ذكر الماء في الوقت لم يعد الصلاة عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله
وقال أبو يوسف: يعيدهامسافر اپنے سامان میں پانی بھول جائے، تیمم کرکے نماز پڑھ لے، پھر وقت کے اندر پانی یاد آ جائے تو امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک نماز نہیں لوٹائے گا، جبکہ امام ابو یوسفؒ کے نزدیک لوٹائے گا۔
وليس على المتيمم إذا لم يغلب على ظنه أن بقربه ماء أن يطلب الماء فإن غلب على ظنه أن هناك ماء لم يجز له أن يتيمم حتى يطلبه وإن كان مع رفيقه ماء طلبه منه قبل أن يتيمم فإن منعه منه تيمم وصلىاگر متیمم کو غالب گمان نہ ہو کہ قریب پانی ہے تو اس پر تلاش لازم نہیں۔ غالب گمان ہو تو تلاش کیے بغیر تیمم درست نہیں۔ ساتھی کے پاس پانی ہو تو تیمم سے پہلے اس سے مانگے؛ اگر وہ نہ دے تو تیمم کرکے نماز پڑھے۔
باب میں مذکور شرائط کے تحت پاک صعید سے بدلِ طہارت۔
متن کے مطابق تیمم میں نیت فرض ہے۔