فقہ — عالمیت درجہ اوّل
طہارت کا معنی اور اقسام
پہلے ان اصطلاحات کو سمجھیں، پھر نیچے سبق پڑھیں۔
وہ شرعی پاکی جو بعض عبادات کے لیے ضروری ہوتی ہے؛ اس میں حدث دور کرنا اور حقیقی نجاست صاف کرنا دونوں شامل ہیں۔
ایک شرعی حکمی حالت، ظاہری گندگی نہیں، جس کی وجہ سے بعض عبادات اس وقت تک درست نہیں ہوتیں جب تک مقررہ طہارت نہ کی جائے۔
وہ حکمی حالت جو وضو توڑنے والی چیزوں سے پیدا ہوتی ہے اور عام طور پر وضو کرنے سے ختم ہو جاتی ہے۔
جنابت، حیض وغیرہ سے پیدا ہونے والی بڑی حکمی حالت جسے دور کرنے کے لیے غسل ضروری ہوتا ہے۔
حقیقی ناپاک چیز جو بدن، کپڑے یا جگہ پر موجود ہو اور جس جگہ لگی ہو اسے پاک کرنا ضروری ہو۔
مخصوص شرعی طہارت جس سے حدثِ اصغر دور ہوتا ہے۔
شرعی غسل جس میں پورا بدن مقررہ طریقے سے دھویا جاتا ہے اور حدثِ اکبر دور ہوتا ہے۔
اب حکم سیکھیں
طہارت عام زبان میں پاکیزگی اور صفائی کو کہتے ہیں۔ فقہ میں اس سے مراد اس حالت یا نجاست کو دور کرنا ہے جو بعض عبادات کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی لیے طہارت کا نماز کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ حدث ایک حکمی حالت ہے جس کے لیے مخصوص شرعی طہارت ضروری ہوتی ہے۔ حدثِ اصغر وضو سے ختم ہوتا ہے، جبکہ حدثِ اکبر کے لیے غسل ضروری ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں خبث حقیقی نجاست ہے جو بدن، کپڑے یا جگہ پر لگتی ہے اور اس جگہ کو پاک کرنے سے دور ہوتی ہے۔
سبق کی تیاری کا ماخذ: فقه العبادات على المذهب الحنفي — used as a reference; lesson wording is original