قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
«لا ضرر ولا ضرار» کا قاعدہ ناحق نقصان روکتا ہے۔ اس کا مطلب ہر تکلیف کی حرمت یا بے قید بدلہ نہیں۔ اسے دیگر دلائل اور حقوق کے ساتھ سمجھیں۔
فقہی قاعدہ «نہ نقصان پہنچاؤ، نہ نقصان کا جواب ناجائز نقصان سے دو» اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشکل ہوم ورک «نقصان» ہے لہٰذا اس سے بھاگنا جائز ہے۔ نہ یہ کہ کسی نے برا لفظ کہا تو اس کی چیز توڑ دی جائے۔ علماء اس قاعدے کو دوسرے احکام کے ساتھ دیکھتے ہیں: نقصان کس قسم کا ہے، کس کا حق ہے، اور اسے قانوناً کیسے روکا جائے؟ یہ حدیث ابن ماجہ وغیرہ میں منقول ہے؛ اس کی اسناد اور شواہد پر علماء نے گفتگو کی ہے۔ مثالیں: بدسلوکی، سامان کا نقصان یا انٹرنیٹ کی دھمکی۔ درست راستہ ظلم روکنا، ذمہ دار بڑے سے مدد لینا اور خود ظالم نہ بننا ہے۔
حقیقی ناجائز نقصان پہچانیں۔
بدلے میں نیا ظلم نہ کریں۔
سب متعلقہ افراد کے حقوق بچائیں۔
نقصان روکنے کا محفوظ و منصفانہ طریقہ اپنائیں۔