قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 9
نیت عمل کی اخلاقی حیثیت میں اہم ہے، مگر اچھی نیت حرام طریقے کو جائز نہیں بناتی۔ مقصد، ذریعہ اور نتیجہ الگ دیکھیں؛ چوری کے مال کا صدقہ مالک کا حق ختم نہیں کرتا۔
«نیت» کسی کام کے پیچھے مقصد کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ اعمال کا تعلق نیتوں سے ہے۔ لیکن اچھا مقصد ہر غلط طریقے کو جائز نہیں کرتا۔ فرض کریں طالب علم پیسے چرا کر کہتا ہے «غریبوں کی مدد کرنی تھی»۔ غریبوں کی مدد نیکی ہے، مگر دوسروں کا مال لینا ظلم ہے۔ مقصد کے ساتھ طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔ دوسرا طالب علم اپنی بچت سے کسی کو کتاب دے تو مقصد اور طریقہ دونوں اچھے ہیں۔ پڑھائی میں بھی نیت فائدہ حاصل کرنے اور دوسروں کو سکھانے کی ہو، صرف تعریف پانے کی نہیں۔ دوسرے کے دل کی نیت کا قطعی علم ہمیں نہیں۔ اپنی نیت ضرور جانچیں۔ غلطی سے کسی کا حق ضائع ہو تو توبہ کے ساتھ حق واپس کرنا چاہیے۔
نیت بتاتی ہے کہ کام کیوں کررہے ہیں۔
نیک مقصد چوری جائز نہیں کرتا۔
طریقے میں دوسروں کے حق کا خیال ہو۔
دوسروں کی چھپی نیتیں نہیں جان سکتے۔