قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 8
انسانی عقل تضاد پہچانتی، دلائل پر غور کرتی اور عدل و ظلم میں فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مشاہدے سے طبعی عالم کے طریقوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ مگر خوردبین یا محض عقل سے یہ طے نہیں ہوسکتا کہ ہر فرض نماز کی کتنی رکعت مقرر ہیں، یا اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مخصوص عبادات کی تفصیل کیا مقرر کی ہے۔ یہ ہدایت وحی کے ذریعے ملتی ہے۔
اس سبق میں صرف تعریف یاد نہیں کرنی بلکہ غور بھی کرنا ہے۔ پہلے اصل بات ایک جملے میں لکھیں۔ پھر قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ پڑھیں۔ روزمرہ کی مثال سے بات سمجھائیں۔ دلیل دیتے وقت یہ بھی بتائیں کہ وہ درست کیوں ہے۔ کوئی اعتراض کرے تو پہلے اس کی بات سمجھیں، پھر ادب سے جواب دیں۔ کسی چیز کے ہونے کے سائنسی طریقے کو اس کے اصل وجود کے سوال کے برابر نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں؛ سائنس ان مراحل کو سمجھتی ہے جنہیں ہم دیکھ اور جانچ سکتے ہیں۔