قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 8
ہم اپنے گرد انسان، درخت، بارش، ستارے اور انسانی بنائی ہوئی اشیا دیکھتے ہیں۔ ان سب میں تبدیلی اور احتیاج پائی جاتی ہے۔ بیج کو نشوونما کے لیے مخصوص حالات درکار ہوتے ہیں؛ انسان پیدا ہوتا، بڑھتا اور وفات پاتا ہے۔ اس سے احتیاج کا معنی واضح ہوتا ہے۔ بیج خود زندگی کا خالق نہیں؛ اللہ تعالیٰ مقررہ اسباب اور طریقوں کے ذریعے زندگی پیدا فرماتے ہیں۔
اس سبق میں صرف تعریف یاد نہیں کرنی بلکہ غور بھی کرنا ہے۔ پہلے اصل بات ایک جملے میں لکھیں۔ پھر قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ پڑھیں۔ روزمرہ کی مثال سے بات سمجھائیں۔ دلیل دیتے وقت یہ بھی بتائیں کہ وہ درست کیوں ہے۔ کوئی اعتراض کرے تو پہلے اس کی بات سمجھیں، پھر ادب سے جواب دیں۔ کسی چیز کے ہونے کے سائنسی طریقے کو اس کے اصل وجود کے سوال کے برابر نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں؛ سائنس ان مراحل کو سمجھتی ہے جنہیں ہم دیکھ اور جانچ سکتے ہیں۔