قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 8
غیبت یہ ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی ایسی بات کی جائے جسے وہ ناپسند کرے، اگرچہ وہ بات واقع میں درست ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے صحیح مسلم ۲۵۸۹ میں غیبت کی توضیح کی، اور بتایا کہ اگر نسبت جھوٹی ہو تو بہتان ہے۔ قرآن (الحجرات ۴۹:۱۲) تجسس و غیبت سے روکتا، اور (۴۹:۶) اہم خبروں کی تحقیق سکھاتا ہے۔ «مذاق» کہنے یا بہت سے لوگوں کے آگے بھیجنے سے افواہ بے ضرر نہیں ہوجاتی۔
پہلے اسکول، گھر یا انٹرنیٹ کی کوئی صورت حال سوچیں۔ دیکھیں کہ کس کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور کس کا حق محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ افواہ سن کر فیصلہ نہ کریں۔ پہلے بات سنیں، حقیقت جانچیں اور ادب سے گفتگو کریں۔ کبھی رازداری اور کسی کو نقصان سے بچانے کی ذمہ داری ساتھ آتی ہے۔ ہر فیصلے کے نتیجے پر غور کریں۔ انصاف اور حفاظت کو سامنے رکھ کر جواب دیں۔ کسی بچے کو خطرہ ہو تو قابل اعتماد بڑے کی مدد لیں۔