قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 7
غصہ انسانی احساس ہے؛ اخلاقی سوال یہ ہے کہ غصے میں کیا کرتے ہیں۔ ناانصافی سے دکھ ہوسکتا ہے، مگر کسی کو مارنا، گالی پھیلانا یا سامان توڑنا درست نہیں۔ قرآن ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے اور معاف کرتے ہیں۔ ضبط کا مطلب ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا نہیں؛ خطرہ ہو تو محفوظ جگہ جائیں اور ذمہ دار بالغ کو اطلاع دیں۔
غصے میں مختصر توقف کریں، ممکن ہو تو جھگڑے سے محفوظ فاصلے پر جائیں، سانس معمول پر لائیں اور باادب الفاظ چنیں۔ بعد میں واقعہ بتاکر منصفانہ حل مانگیں۔ مثال: مجھے غصہ آیا کیونکہ میری کتاب بغیر اجازت لی گئی؛ براہ کرم واپس کریں۔ یہ کردار کشی سے کہیں زیادہ مضبوط اور کارآمد بات ہے۔