قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 6
تیمم اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی شرعی طہارت ہے جو پانی میسر نہ ہو یا اس کا استعمال واقعی ضرر رساں ہو تو اختیار کی جاتی ہے۔ صرف سستی یا دھونے سے بچنے کے لیے تیمم کرنا درست طریقہ نہیں۔ قرآن پاک مٹی کی طرف رجوع اور چہرے و ہاتھوں کے مسح کا حکم بیان کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عذر کی صورت میں عبادت کے ساتھ سہولت بھی ہے۔
صاف مناسب مادے سے تیمم کا طریقہ اہل استاد کے عملی مظاہرے میں سیکھیں۔ ایسا مسافر تصور کریں جس کے پاس قابلِ استعمال پانی نہیں، یا ایسا مریض جسے پانی سے نقصان کا معتبر اندیشہ ہے۔ عذر کی شرائط اور تیمم کب ختم ہوتا ہے، استاد واضح کریں گے۔ جزوی عملی تفصیلات میں فقہی مذاہب کے اختلاف کا بھی ادب سے لحاظ رکھیں۔