قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 5
11 ہجری میں علالت کے بعد حضرت محمد ﷺ کا مدینہ میں وصال ہوا۔ صحابہ آپ ﷺ سے محبت کرتے اور آپ سے علم سیکھتے تھے، اس لیے انہیں شدید رنج ہوا۔ پھر امت کو یاد دلایا گیا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ہمیشہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ قرآن ہدایت اور تسلی کا سرچشمہ رہا۔
اس واقعے کو نرمی اور ادب سے پڑھیں۔ غم انسانی جذبہ ہے؛ ہم کسی غمگین شخص کی بات سن کر، دعا کرکے اور خیال رکھ کر مدد دے سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے قرآن پڑھنا اور نبی ﷺ کی تعلیمات محفوظ رکھنا جاری رکھا۔ وصال یاد دلاتا ہے کہ رہنمائی پر شکر اور عزیز قائد کے نہ رہنے پر بھی ذمہ داری ضروری ہے۔