قسط مکتب · اسلامیات · درجہ 4
2 ہجری میں مدینہ کی نئی مسلم جماعت کو بدر کے قریب قریش کی ایک طاقتور فوج کا سامنا ہوا۔ مسلمان تعداد میں کم تھے اور ابتدا میں بڑی جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے، لیکن حالات بدل گئے اور انہیں مقابلہ کرنا پڑا۔
حضرت محمد ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا، مسلمانوں کو منظم کیا اور اللہ سے دعا کی۔ مسلمانوں کو فتح ملی۔ اس واقعے نے سکھایا کہ کامیابی شکر اور انکساری پیدا کرے، تکبر نہیں۔