ویدک فلسفہ

ماڈیول 01سبق 01

ویدی فلسفہ کیا ہے؟

۱۔ ایک سوال جس سے فلسفے کا سفر شروع ہوا

فرض کیجیے کہ قدیم ہندوستان کی ایک بستی میں شام کا وقت ہے۔ سورج آہستہ آہستہ افق کے پیچھے اتر رہا ہے۔ کھیتوں سے واپس آنے والے لوگ اپنے گھروں کی طرف جا رہے ہیں۔ ایک نوجوان اپنے استاد کے ساتھ درخت کے نیچے بیٹھا ہے۔ دونوں کچھ دیر خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔

نوجوان پوچھتا ہے: ’’استاد! یہ آسمان، زمین، درخت، پہاڑ اور ہم انسان، سب کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ استاد فوراً جواب نہیں دیتا۔ وہ پوچھتا ہے: ’’تمہیں کیا معلوم ہے کہ یہ چیزیں موجود ہیں؟‘‘ نوجوان کہتا ہے: ’’میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں، ہاتھوں سے چھوتا ہوں اور ان کے اثرات محسوس کرتا ہوں۔‘‘

استاد پوچھتا ہے: ’’کیا کسی چیز کو دیکھ لینا اس کی پوری حقیقت کو جان لینا ہے؟‘‘ نوجوان کچھ دیر سوچ کر کہتا ہے: ’’شاید نہیں۔ میں درخت کو دیکھ سکتا ہوں، لیکن اس کے وجود کی آخری حقیقت کو نہیں جانتا۔‘‘

اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ ہمارے سامنے کیا موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ ہم اسے کیسے جانتے ہیں؟ اور اس علم کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے؟ ہندوستانی فلسفیانہ روایت میں یہی سوالات ایک وسیع فکری سرگرمی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس روایت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ایک اہم لفظ سے واقف ہونا ضروری ہے: درشن (Darśana)۔

۲۔ درشن: دیکھنے اور حقیقت کو سمجھنے کا فرق

نوجوان پوچھتا ہے: ’’اگر ہم کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں تو پھر اسے جاننے کے لیے فلسفے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ استاد سامنے موجود ایک درخت کی طرف اشارہ کرتا ہے: ’’تم کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ ’’ایک درخت۔‘‘ ’’اس کے متعلق کیا جانتے ہو؟‘‘ ’’اس کا تنا ہے، شاخیں ہیں، پتے ہیں، اور یہ زمین میں اگتا ہے۔‘‘

استاد پوچھتا ہے: ’’لیکن کیا تم نے کبھی سوچا کہ کسی چیز کا موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا تمام موجودات کی حقیقت ایک جیسی ہے؟ کیا کوئی ایسی حقیقت بھی ہے جس پر دوسری چیزوں کا وجود قائم ہو؟‘‘ نوجوان سمجھنے لگتا ہے کہ حواس کے ذریعے مشاہدہ کرنا اور حقیقت کے متعلق فلسفیانہ سوال اٹھانا دو الگ سرگرمیاں ہیں۔

مفہوم: وہ ذریعہ جس کے ذریعے دیکھا یا حقیقت کا ادراک کیا جائے۔ یہاں دیکھنے کا مطلب صرف آنکھوں سے دیکھنا نہیں، بلکہ کسی شے کی حقیقت کو سمجھنا بھی ہے۔ اس طرح درشن کا تعلق علم اور ادراک سے بھی قائم ہوتا ہے۔

عام مشاہدہفلسفیانہ ادراک
سامنے درخت موجود ہےوجود کی حقیقت کیا ہے؟
سورج طلوع اور غروب ہوتا دکھائی دیتا ہےتبدیلی اور دوام کا باہمی تعلق کیا ہے؟
انسان سوچتا اور جانتا ہےعلم کی حقیقت اور اس کا ذریعہ کیا ہے؟

اس فرق کا مطلب یہ نہیں کہ فلسفہ مشاہدے کو غیر ضروری سمجھتا ہے، بلکہ مشاہدے سے حاصل ہونے والی معلومات کے متعلق مزید بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔

۳۔ تتو: حقیقت کی تلاش میں انسان کا اپنا مقام

نوجوان استاد سے پوچھتا ہے: ’’اگر فلسفہ حقیقت کو جاننے کا نام ہے تو حقیقت سے کیا مراد ہے؟‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’یہی تو فلسفے کا مشکل ترین سوال ہے۔‘‘ کسی چیز کے متعلق معلومات حاصل کرنا ایک بات ہے، لیکن یہ دریافت کرنا کہ تمام چیزوں کی آخری بنیاد کیا ہے، دوسرا مسئلہ ہے۔

تتو کا مفہوم کسی شے کی حقیقت یا بنیادی ماہیت ہے۔ اسے بعض توضیحات میں Tat اور Tva کے حوالے سے سمجھایا جاتا ہے اور جاننے والے انسان اور حقیقت کے تعلق سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس توضیح کو تمام سنسکرت فلسفیانہ روایات میں لفظ کی متفقہ لسانی تعریف نہیں سمجھنا چاہیے۔

استاد کہتا ہے: ’’جب تم حقیقت کے بارے میں سوال کرتے ہو تو وجودیات کے میدان میں داخل ہوتے ہو۔ جب پوچھتے ہو کہ اسے کیسے جانا جائے تو علمیات کا سوال اٹھاتے ہو۔ اور جب یہ جاننا چاہتے ہو کہ اس علم سے زندگی کو کیا فائدہ پہنچے گا تو اقداریات سامنے آتی ہے۔‘‘

میدانبنیادی سوال
وجودیات — Metaphysicsحقیقت کیا ہے؟
علمیات — Epistemologyعلم کے ذرائع کیا ہیں؟
اقداریات — Axiologyکیا چیز قابلِ قدر ہے؟

۴۔ کیا تمام ہندوستانی فلسفی ایک ہی حقیقت کے قائل تھے؟

نوجوان کو محسوس ہو رہا تھا کہ شاید قدیم ہندوستان کے تمام فلسفی دنیا کو ایک ہی انداز سے سمجھتے ہوں گے۔ وہ پوچھتا ہے: ’’کیا تمام فلسفیوں نے ان سوالات کے ایک جیسے جواب دیے؟‘‘ استاد کہتا ہے: ’’نہیں۔ یہی ہندوستانی فلسفے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ یہاں حقیقت کے متعلق مختلف، اور بعض اوقات ایک دوسرے کے مخالف، نظریات پیش کیے گئے۔‘‘

بعض مکاتب نے مادی دنیا کو بنیادی حقیقت سمجھا۔ بعض نے غیر مادی حقیقت کو اہمیت دی۔ کچھ خدا کے قائل تھے اور کچھ کے فلسفیانہ نظام میں خدا کا اثبات ضروری نہیں تھا۔ استاد دو سوال لکھتا ہے: حقیقت مادی ہے یا غیر مادی؟ کیا فلسفیانہ نظام خدا کے وجود کا اثبات کرتا ہے یا نہیں؟

حقیقت کی نوعیتخدا کے بارے میں موقفمجموعی صورت
مادیخدا کا اثباتمادی، خدا پرستانہ
مادیخدا کا اثبات نہیںمادی، غیر خدا پرستانہ
غیر مادیخدا کا اثباتغیر مادی، خدا پرستانہ
غیر مادیخدا کا اثبات نہیںغیر مادی، غیر خدا پرستانہ

یہ ایک ابتدائی درجہ بندی ہے۔ غیر خدا پرستانہ موقف کے اندر الحاد اور لاادریت کا فرق بھی اہم ہے۔ مادی حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب لازماً خدا کا انکار نہیں، اور غیر مادی حقیقت کے قائل ہونے کا مطلب ہر صورت میں خدا کو ماننا بھی نہیں۔ دوئیت واد، ویشیشک اور چارواک جیسے مکاتب اس فکری تنوع کو واضح کرتے ہیں۔

۵۔ حقیقت ایک ہے، دو ہے یا بہت سی؟

استاد کہتا ہے: ’’فرض کرو تمہارے سامنے مٹی کا ایک برتن ہے۔ تم اسے ایک چیز سمجھتے ہو، لیکن اس کے اندر کئی اجزا اور خصوصیات ہیں۔ اب سوچو کہ پوری کائنات کی آخری حقیقت کتنی ہیں؟‘‘ نوجوان کہتا ہے: ’’شاید ایک۔‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’بعض فلسفیوں نے ایسا ہی کہا، لیکن سب نے نہیں۔‘‘

اصل متن کے مطابق اپنشدوں کو وحدت پسندانہ رجحان سے اور ویشیشک کو کثرت پسندانہ نظریے سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ ادویت کو عدمِ ثنویت کے حوالے سے ممتاز کیا گیا ہے۔ استاد واضح کرتا ہے کہ یہ مختلف فلسفیانہ دعوے ہیں؛ صرف ان کے نام جاننا کافی نہیں، بعد کے اسباق میں ان کی دلیلیں بھی سمجھنی ہوں گی۔

نظریہبنیادی مفہوم
Monism — وحدت پسندیایک بنیادی حقیقت
Dualism — ثنویتدو بنیادی اصول
Pluralism — کثرت پسندیمتعدد بنیادی حقائق
Advaita — عدمِ ثنویتبنیادی دوئی کی نفی

۶۔ علم: دنیا پر اختیار یا اپنے نفس کی تربیت؟

اگلی صبح نوجوان استاد سے پوچھتا ہے: ’’اگر علم ہمیں دنیا کے متعلق معلومات دیتا ہے تو ہمیں علم کیوں حاصل کرنا چاہیے؟‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’مختلف تہذیبوں اور فلسفیانہ روایات نے علم کے مقصد کو مختلف انداز سے سمجھا ہے۔‘‘

قدیم یونانی فکر کے بعض رجحانات میں علم برائے علم کی اہمیت نمایاں رہی، جبکہ فرانسس بیکن کے ہاں علم کو خارجی دنیا پر انسانی اختیار سے بھی مربوط کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں قدیم ہندوستانی فکر کا ایک نمایاں رجحان علم کو انسان کی ذات، خواہشات اور طرزِ زندگی کی اصلاح سے وابستہ کرتا ہے۔

علم اور خارجی دنیاعلم اور انسانی ذات
فطرت کو سمجھنا اور اس کے وسائل پر انسانی اختیار بڑھاناحقیقت کو سمجھ کر اپنی خواہشات، اعمال اور زندگی کی سمت درست کرنا

یہ فکری رجحانات کا تقابل ہے، تمام مغربی یا ہندوستانی فلسفیوں پر یکساں حکم نہیں۔ بہت سے ہندوستانی مکاتب نے علم کو زندگی کے مقصد سے وابستہ سمجھا، لیکن چارواک جیسے مکاتب کے مقاصد دوسرے مکاتب سے مختلف تھے۔ قدیم ہندوستان میں طب، جراحی، ریاضی اور فلکیات جیسے علوم بھی ترقی کرتے رہے؛ ان میں بعض عملی ضروریات سے اور بعض مذہبی رسوم، خصوصاً یجنا، سے وابستہ تھے۔

۷۔ دو طرح کا علم: پرا ودیا اور اپرا ودیا

نوجوان پوچھتا ہے: ’’اگر علم کی مختلف صورتیں ہیں تو کیا تمام علم کی حیثیت ایک جیسی ہے؟‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’اپنشدوں کی روایت میں علم کی دو اہم قسمیں بیان کی گئی ہیں۔‘‘

وہ علم جسے آخری حقیقت کی معرفت سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔

وہ علم جو دنیا، اشیا اور ان سے متعلق معاملات کی معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ استاد وضاحت کرتا ہے کہ اس تقسیم میں اعلیٰ علم کو خاص اہمیت حاصل ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے متعلق تمام معلومات بے کار ہیں۔

ہندوستانی فلسفیانہ مکاتب نے ادراک، موازنہ اور علم کے دوسرے ذرائع پر سنجیدہ بحث کی۔ صحیح اور غلط علم میں فرق بھی ان کی علمی تحقیقات کا حصہ رہا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ انسان کیا جانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم کی صحت کو کس بنیاد پر تسلیم کرتا ہے۔

۸۔ زندگی کا مقصد: خواہش، دولت، اخلاق اور نجات

ایک دن استاد نوجوان کو بازار لے جاتا ہے۔ لوگ تجارت کر رہے ہیں، کوئی خاندان کے لیے سامان خرید رہا ہے، کوئی روزی کمانے میں مصروف ہے، کچھ مذہبی رسومات کی تیاری کر رہے ہیں۔ استاد پوچھتا ہے: ’’ان لوگوں کی سرگرمیوں میں کیا مشترک ہے؟‘‘ نوجوان کہتا ہے: ’’سب کسی نہ کسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘

استاد کہتا ہے: ’’اب سوال یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مقاصد کیا ہیں، اور ان کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے؟‘‘ ہندوستانی فلسفیانہ روایت میں پرشارتھ (Puruṣārtha) کا تصور اہم ہے۔

اس تصور میں دولت حاصل کرنا یا انسانی خواہشات کا وجود بذاتِ خود بے معنی نہیں سمجھا جاتا۔ اصل سوال ان کے حصول کے ذرائع اور ان کی حیثیت کا ہے۔ ہندوستانی فلسفیانہ روایت میں دھرم کو ارتھ اور کام کے حصول کے لیے اخلاقی رہنمائی کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ موکش کو بہت سے فلسفیانہ نظاموں میں اعلیٰ مقصد سمجھا گیا ہے۔

اصطلاحبنیادی مفہوم
Dharma — دھرماخلاقی طرزِ عمل
Artha — ارتھدولت اور مادی وسائل
Kāma — کامخواہشات اور لذتیں
Mokṣa — موکشآزادی یا نجات

۹۔ کیا نجات کی خواہش دنیا سے فرار ہے؟

نوجوان اعتراض کرتا ہے: ’’اگر زندگی کا اعلیٰ مقصد موکش ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور اس کی تمام خوشیاں بے معنی ہیں؟‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’یہ اعتراض ہندوستانی فلسفے کے متعلق پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن اسے تمام ہندوستانی فلسفیانہ مکاتب پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

دنیاوی لذت کو انسان کی آخری منزل نہ سمجھنا اور دنیا کو مکمل طور پر بے معنی قرار دینا ایک بات نہیں۔ عارضی لذت اور دیرپا مسرت کے درمیان فرق کیا جاسکتا ہے۔ موکش کو محض دکھ سے فرار کے بجائے ایک مثبت مقصد کے طور پر بھی سمجھا گیا ہے۔

جیون مکتی (Jīvanmukti) سے مراد زندگی ہی میں آزادی یا نجات کے حصول کا امکان ہے۔ اگر کوئی فلسفی دنیاوی لذت کو آخری مقصد نہیں مانتا تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ زندگی کو برا سمجھتا ہے۔ اس لیے ہندوستانی فلسفے کو مکمل طور پر مایوس کن یا فرار پسند قرار دینا درست نہیں۔

۱۰۔ فلسفہ اور مذہب: کیا دونوں ایک ہی چیز ہیں؟

نوجوان پوچھتا ہے: ’’اگر ان مکاتب میں روحانیت، نجات اور اخلاق کے مسائل موجود ہیں تو کیا فلسفہ اور مذہب ایک ہی چیز ہیں؟‘‘ استاد جواب دیتا ہے: ’’نہیں۔ دونوں کے درمیان تعلق ہوسکتا ہے، لیکن تعلق اور یکسانیت الگ چیزیں ہیں۔‘‘

فلسفہ حقیقت، علم اور اقدار کے متعلق سوالات اٹھاتا ہے اور ان کے حق میں دلائل پیش کرتا ہے۔ مذہبی روایات بھی ان موضوعات سے متعلق تصورات رکھ سکتی ہیں، لیکن فلسفیانہ تحقیق کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر متعین کرنا درست نہیں۔ اسی لیے ہندوستانی فلسفے کی شناخت کو کسی ایک مذہبی روایت تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

کسی فلسفیانہ نظریے کو سمجھنے کے لیے اس کے دعوے، اصطلاحات اور دلائل کا مطالعہ ضروری ہے؛ صرف اس کے مذہبی یا تہذیبی پس منظر کا ذکر کافی نہیں۔ یہ اصول آگے ویدی، اپنشدک، سانکھیہ، نیائے، ویشیشک، ادویت، بدھ اور جین فلسفوں کے تقابلی مطالعے میں مدد دے گا۔

فلسفیانہ تحقیقمذہبی روایت
حقیقت کے متعلق سوالات اٹھاتی ہےحقیقت کے متعلق تصورات پیش کرسکتی ہے
دلائل پر بحث کرتی ہےعقائد اور اعمال سے متعلق ہوسکتی ہے

۱۱۔ ایک سوال سے کئی سوالات تک

شام ہوچکی ہے۔ نوجوان واپس جانے کے لیے اٹھتا ہے، لیکن اب اس کے ذہن میں پہلے سے زیادہ سوالات ہیں۔ اس نے سفر کے آغاز میں پوچھا تھا کہ کائنات کہاں سے آئی ہے۔ اب وہ جانتا ہے کہ اس ایک سوال کے ساتھ دوسرے سوالات بھی وابستہ ہیں: حقیقت کیا ہے؟ انسان اپنے علم کی صحت کیسے جانچ سکتا ہے؟ علم کا مقصد کیا ہے؟ دنیاوی زندگی اور روحانی مقاصد کا کیا تعلق ہے؟ فلسفے اور مذہب میں کیا فرق ہے؟

استاد کہتا ہے: ’’فلسفے کا مطالعہ صرف مختلف مفکرین کے جواب یاد کرنے کا نام نہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ انہوں نے کون سا سوال اٹھایا، اس کا کیا جواب دیا اور اس جواب کے لیے کیا دلیل پیش کی۔‘‘ نوجوان گھر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ آسمان پر ستارے نمودار ہوچکے ہیں۔ کائنات وہی ہے، لیکن اسے دیکھنے والے کے سوالات بدل گئے ہیں۔ یہی اس کے فلسفیانہ مطالعے کا آغاز ہے۔

اہم اصطلاحمفہوم
Darśana — درشنحقیقت کا فلسفیانہ ادراک
Tattva — تتوحقیقت یا بنیادی ماہیت
Metaphysics — وجودیاتوجود اور آخری حقیقت کا مطالعہ
Epistemology — علمیاتعلم کے ذرائع، حقیقت اور حدود کا مطالعہ
Axiology — اقداریاتاقدار کا مطالعہ
Monism — وحدت پسندیایک بنیادی حقیقت کا نظریہ
Pluralism — کثرت پسندیمتعدد بنیادی حقائق کا نظریہ
Parā Vidyā — پرا ودیااعلیٰ حقیقت سے متعلق علم
Aparā Vidyā — اپرا ودیادنیاوی علم
Avidyā — اوِدیاجہالت یا عدمِ معرفت
Mokṣa — موکشآزادی یا نجات
Yajña — یجناویدی مذہبی رسم یا قربانی

حاصلِ مطالعہ: ہندوستانی فلسفہ ایک متنوع علمی روایت ہے۔ اس میں حقیقت، علم، انسانی اقدار اور زندگی کے مقصد کے متعلق مختلف نظریات پیش کیے گئے۔ بہت سے مکاتب نے علم کو انسانی زندگی کی اصلاح اور نجات کے تصور سے جوڑا، لیکن تمام مکاتب کے جوابات یکساں نہیں تھے۔

غور و فکر: کیا کسی چیز کو حواس کے ذریعے جان لینا اس کی آخری حقیقت کو جان لینے کے لیے کافی ہے؟ اپنی دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔