کورسز
منطقمضمون
موجودہ سبقعلم کیا ہے؟
0%پیش رفت
0دن تسلسل
0پوائنٹس
سبق 3

ما العلم؟

علم کیا ہے؟

تعلیمی اہداف

  • علم کی تعریف بیان کر سکے گا۔
  • یہ سمجھ سکے گا کہ علم ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی چیز واضح ہوتی ہے۔
  • جاننے والے، معلوم چیز اور علم کے درمیان فرق کر سکے گا۔
  • کسی چیز کا صرف نام سننے اور اسے جاننے میں فرق سمجھ سکے گا۔
  • علم کی تعریف کو آسان مثالوں پر منطبق کر سکے گا۔

متن

العِلْمُ: وَهُوَ صِفَةٌ يَتَجَلَّى بِهَا الْمَذْكُورُ لِمَنْ قَامَتْ هِيَ بِهِ.

علم ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعے کسی قابلِ ذکر چیز کی حقیقت اس شخص پر واضح ہو جاتی ہے جس میں یہ صفت پائی جاتی ہے۔

تشریح

تشریح

انسان کے سامنے بہت سی چیزیں آتی ہیں، لیکن کسی چیز کا سامنے آ جانا یا اس کا نام سن لینا لازماً اس چیز کا علم حاصل ہو جانا نہیں ہے۔ مثلاً ایک بچہ “مثلث” کا لفظ سن سکتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اسے معلوم نہ ہو کہ مثلث کیا ہوتا ہے۔ جب مثلث کا مفہوم اس کے ذہن میں واضح ہو جائے تو کہا جائے گا کہ اسے مثلث کا علم حاصل ہو گیا۔ اسی لیے علمائے منطق نے علم کو ایسی صفت قرار دیا ہے جس کے ذریعے کوئی چیز جاننے والے پر واضح ہو جاتی ہے۔ علم خود خارجی چیز نہیں ہوتا، بلکہ وہ صفت ہے جس کے ذریعے اس چیز کا مفہوم یا حقیقت انسان پر منکشف ہوتی ہے۔

1۔ صِفَةٌ — ایک صفت

1۔ صِفَةٌ — ایک صفت

علم جاننے والے کی ایک صفت ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز کو جانتا ہے تو اس شخص میں علم کی صفت پائی جاتی ہے۔

2۔ يَتَجَلَّى — واضح ہونا

2۔ يَتَجَلَّى — واضح ہونا

يَتَجَلَّى کا معنی ہے: ظاہر ہونا، منکشف ہونا یا واضح ہو جانا۔

علم حاصل ہونے سے پہلے کوئی چیز نامعلوم یا غیر واضح ہو سکتی ہے۔ علم کے ذریعے وہی چیز ذہن کے سامنے واضح ہو جاتی ہے۔

3۔ الْمَذْكُورُ — قابلِ ذکر چیز

3۔ الْمَذْكُورُ — قابلِ ذکر چیز

المذكور سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا ذکر کیا جا سکے یا جسے ذہن میں موضوع بنایا جا سکے۔

وہ چیز یہ ہو سکتی ہے:

• کوئی مادی چیز، جیسے کتاب۔ • کوئی معنی، جیسے عدل۔ • کوئی گزشتہ واقعہ۔ • کوئی ریاضیاتی تصور۔ • کوئی موجود چیز۔ • کوئی ایسی چیز جو خارج میں موجود نہ ہو، لیکن اس کا تصور یا ذکر ممکن ہو۔

4۔ لِمَنْ قَامَتْ هِيَ بِهِ — جاننے والے کے لیے

4۔ لِمَنْ قَامَتْ هِيَ بِهِ — جاننے والے کے لیے

اس عبارت سے مراد وہ شخص ہے جس میں علم کی صفت قائم ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو عالِم، یعنی جاننے والا، کہا جاتا ہے۔

پس جب کسی طالب علم میں کسی موضوع کا علم پیدا ہوتا ہے تو وہ موضوع اس طالب علم پر واضح ہو جاتا ہے۔

علم کے تین عناصر

علم کے تین عناصر

علم کی تعریف میں تین بنیادی عناصر پائے جاتے ہیں:

عالِم: وہ شخص جو جانتا ہے۔

علم: وہ صفت جس کے ذریعے جاننا حاصل ہوتا ہے۔

معلوم: وہ چیز جو جاننے والے پر واضح ہوتی ہے۔

مثلاً زید جانتا ہے کہ زمین گول ہے:

• زید عالِم ہے۔ • اس کا جاننا علم ہے۔ • زمین کا گول ہونا معلوم ہے۔

نام جاننا اور معنی جاننا

نام جاننا اور معنی جاننا

کسی لفظ کو سن لینا یا یاد کر لینا ہمیشہ اس کے معنی کا علم نہیں ہوتا۔

ممکن ہے ایک طالب علم یہ جملہ یاد کر لے کہ “مثلث کے تین ضلع ہوتے ہیں”، لیکن مثلث کو پہچان نہ سکے۔ جب وہ اس کا مفہوم سمجھ لے اور مثلث کی شناخت کر سکے تو یہ چیز اس پر واضح ہو جاتی ہے۔

پس علم میں یہ ضروری ہے کہ معلوم چیز جاننے والے کے سامنے کسی درجے میں منکشف اور واضح ہو۔

روزمرہ مثال

روزمرہ مثال

ایک طالب علم ہندسی شکل دیکھتا ہے، لیکن وہ اس کا نام اور خصوصیات نہیں جانتا۔

استاد بتاتا ہے کہ یہ مربع ہے اور اس کے چار برابر ضلع اور چار زاویے ہوتے ہیں۔ اس وضاحت کے بعد مربع کی صورت اور اس کا مفہوم طالب علم کے ذہن میں واضح ہو جاتا ہے۔

اس مثال میں:

• طالب علم عالِم ہے۔ • مربع معلوم ہے۔ • مربع کا طالب علم پر واضح ہونا علم ہے۔

اصطلاحات

علم

Knowledge

صفت

Attribute

تجلی / انکشاف

Disclosure / Becoming clear

قابلِ ذکر چیز

The thing under consideration

جاننے والا

The knower

معلوم

The known

جہل / لاعلمی

Ignorance

غور و فکر

ایسی چیز کے بارے میں غور کریں جسے آپ پہلے نہیں سمجھتے تھے، لیکن اب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس چیز کا علم حاصل ہونے کے بعد آپ کے ذہن میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی؟

خلاصہ

  • علم ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعے کوئی قابلِ ذکر چیز جاننے والے پر واضح ہو جاتی ہے۔ جاننے والے کو عالِم اور واضح ہونے والی چیز کو معلوم کہتے ہیں۔ اس طرح علم، عالِم اور معلوم کے درمیان ایسا تعلق قائم کرتا ہے جس میں معلوم چیز ذہن کے سامنے منکشف ہو جاتی ہے۔