وَالْخَبَرُ هُوَ الَّذِي يُقَالُ لِقَائِلِهِ إِنَّهُ صَادِقٌ أَوْ كَاذِبٌ فِيهِ بِالذَّاتِ لَا بِالْعَرَضِ.منطق کی پہلی کتاب — باب 16- حکم اور خبر کی کتابی تعریف بیان کریں۔
- کتاب میں دیے گئے امتیازات اور مثال کو پہچانیں۔
- باب کے قاعدے کو ایک نئی مثال پر منطبق کریں۔
حکم: کسی موضوع کے لیے کسی معنی کا اثبات یا نفی۔ خبر: ایسا کلام جسے سچا یا جھوٹا کہا جاسکے۔
امر، سوال اور دعا خبر نہیں، کیونکہ ان میں کسی واقعے کے سچا یا جھوٹا ہونے کا حکم نہیں ہوتا۔
تمہیدِ باب
جب ہم کسی چیز کے بارے میں کچھ ثابت یا نفی کرتے ہیں تو ایک حکم بنتا ہے۔ اس حکم کا خبری اظہار خبر کہلاتا ہے۔
اہم بات
صدق و کذب کا تعلق خبری حکم سے ہے۔
01
کتاب کی مثال
“زید حاضر ہے” خبر ہے؛ “کیا زید حاضر ہے؟” سوال ہے؛ “زید کو بلائیے” امر ہے۔
01حکم
کسی موضوع کے لیے اثبات یا نفی
02خبر
ایسا کلام جسے سچا یا جھوٹا کہا جاسکے
03صدق
خبر کا سچا ہونا
04کذب
خبر کا جھوٹا ہونا
- صدق و کذب کا تعلق خبری حکم سے ہے۔