اعلم أن العلم يطلق على معان:
أحدها: حصول صورة الشيء في العقل،
ثانيها: الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل،
ثالثها: الحاضر عند المدرك،
رابعها: قبول النفس لتلك الصورة،
خامسها: الإضافة الحاصلة بين العالم والمعلوم.
وينقسم على قسمين: أحدهما يقال له «التصور»، وثانيهما يعبر عنه بـ«التصديق».المرقات، ص 9-10- متن میں مذکور علم کے بنیادی معانی پہچان سکے۔
- ابتدائی طور پر تصور اور تصدیق میں فرق کر سکے۔
جان لو کہ علم کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے: اوّل، عقل میں کسی چیز کی صورت کا حاصل ہونا؛ دوم، عقل کے پاس کسی چیز سے حاصل ہونے والی صورت؛ سوم، مدرِک کے پاس حاضر چیز؛ چہارم، نفس کا اس صورت کو قبول کرنا؛ پنجم، عالم اور معلوم کے درمیان قائم ہونے والی نسبت۔ پھر علم دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے: ایک کو تصور اور دوسری کو تصدیق کہا جاتا ہے۔
شرح میں واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ علم نے علم کی حقیقت بیان کرنے میں مختلف تعبیرات اختیار کی ہیں: بعض نے اسے حصول، بعض نے ذہنی صورت، بعض نے نفس کی ایک صفت، اور بعض نے عالم و معلوم کے درمیان نسبت قرار دیا۔ شرح علمِ قدیمِ الٰہی اور مخلوق کے حادث علم میں بھی فرق کرتی ہے۔ تصور و تصدیق کی یہ تقسیم مخلوق کے حصولی علم سے متعلق ہے: تصور میں کسی معنی کا ادراک ہوتا ہے مگر اس پر اثبات یا نفی کا حکم نہیں لگایا جاتا، جبکہ تصدیق میں خبری نسبت کا ادراک شامل ہوتا ہے۔
ابھی مثالیں شامل نہیں کی گئیں۔
- متن میں مذکور علم کے بنیادی معانی پہچان سکے۔
- ابتدائی طور پر تصور اور تصدیق میں فرق کر سکے۔