نيل السعادة الأبدية واجتناب الشقاوة الدائمةوأهم الأمور لكافة الخلق نيل السعادة الأبدية واجتناب الشقاوة الدائمة. ومقصود هذا العلم إقامة البرهان على وجود الرب تعالى وصفاته وأفعاله وصدق الرسل.- عقیدہ کے مطالعہ کی اہمیت بیان کرنا۔
- عقیدہ اور نجات کے تعلق کو سمجھنا۔
- امام غزالی رحمہ اللہ کے نزدیک علم الکلام کی اہمیت سمجھانا۔
- صحیح عقیدہ کو تمام اعمال کی بنیاد سمجھنا۔
سب سے بڑا مقصد دائمی سعادت حاصل کرنا اور دائمی شقاوت سے بچنا ہے۔
ہر انسان کامیابی اور خوشی چاہتا ہے۔ لوگ محنت کرتے ہیں: • دولت کے لیے • تعلیم کے لیے • صحت کے لیے • عزت کے لیے • آرام کے لیے لیکن امام غزالی رحمہ اللہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی تمام کامیابیاں عارضی ہیں۔ اصل کامیابی آخرت کی دائمی کامیابی ہے۔ اور سب سے بڑی ناکامی ہمیشہ کی بدبختی اور عذاب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ، نبوت، وحی اور آخرت کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر انسان اپنے خالق کو نہ پہچانے تو زندگی کا مقصد واضح نہیں ہوتا۔ لہٰذا علمِ کلام کا مقصد صرف مناظرہ یا بحث نہیں بلکہ صحیح عقیدہ حاصل کرنا ہے جو انسان کو دائمی کامیابی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اس تصور کا کیا فائدہ ہے؟
اس اصول کو سمجھنے سے تنقیدی اور تجزياتی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔
ابھی مثالیں شامل نہیں کی گئیں۔
- ہر انسان خوشی اور کامیابی چاہتا ہے۔
- دنیاوی کامیابی عارضی ہے۔
- آخرت کی دائمی کامیابی سب سے بڑا مقصد ہے۔
- علمِ کلام ہمیں اللہ، نبوت، وحی اور آخرت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- صحیح عقیدہ نیک اعمال کی بنیاد ہے۔
- امام غزالی اس علم کو ہر عقلمند انسان کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔