الاقتصاد فی الاعتقاد

ماڈیول 02سبق 01

دنیا کو خالق کی ضرورت کیوں ہے؟

وجود الله تعالى · سبق 7

01تعلیمی اہداف
  • اس سبق کے مرکزی سوال کو سمجھنا۔
  • وجودِ باری تعالیٰ کی دلیل میں استعمال ہونے والے بنیادی تصورات کو پہچاننا۔
  • یہ بیان کرنا کہ یہ سبق امام غزالی کی دلیل میں کیسے مدد دیتا ہے۔
  • آسان مثالوں اور سوالات کے ذریعے تصور کو لاگو کرنا۔
02اصل متن
كل حادث فلحدوثه سبب، والعالم حادث، فيلزم منه أن له سببًا.
كل حادث فلحدوثه سبب، والعالم حادث، فيلزم منه أن له سببًا.
03ترجمہ

کائنات خود بخود کیوں موجود نہیں ہو سکتی؟

04تشریح

دنیا میں ایسی چیزیں موجود ہیں جو شروع ہوتی ہیں، بدلتی ہیں، اور اسباب کی محتاج ہوتی ہیں۔ جو چیز شروع ہو، وہ اپنے وجود کی خود وضاحت نہیں کر سکتی، کیونکہ وجود سے پہلے اس کے پاس خود کو پیدا کرنے کی کوئی قدرت نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہر حادث چیز کو سبب کی ضرورت ہے۔ کائنات حادث چیزوں پر مشتمل ہے، اس لیے وہ خود کفیل نہیں ہو سکتی۔ یہی بات عقل کو علتِ اولیٰ یعنی خالق تک پہنچاتی ہے۔

اس تصور کا کیا فائدہ ہے؟

اس اصول کو سمجھنے سے تنقیدی اور تجزياتی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔

05مثالیں
01
بنیادی تصورات

سبب اور مسبب، چیزیں کیوں شروع ہوتی ہیں، ہر آغاز وضاحت چاہتا ہے، علتِ اولیٰ کی تلاش

سبب اور مسبب, چیزیں کیوں شروع ہوتی ہیں, ہر آغاز وضاحت چاہتا ہے, علتِ اولیٰ کی تلاش

06اہم اصطلاحات
01النص المرجعي
کائنات خود بخود کیوں موجود نہیں ہو سکتی؟
07خلاصہ سبق
  • ہر آغاز ایک وضاحت کا محتاج ہے۔
  • کائنات حادث چیزوں اور واقعات پر مشتمل ہے۔
  • جو چیز وجود میں آئے اسے سبب کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • اسباب کی تلاش علتِ اولیٰ کی ضرورت تک پہنچاتی ہے۔
  • خالق یہ وضاحت کرتا ہے کہ کائنات کیوں موجود ہے۔