ومقصود هذا العلم إقامة البرهان على وجود الرب تعالى وصفاته وأفعاله وصدق الرسلومقصود هذا العلم إقامة البرهان على وجود الرب تعالى وصفاته وأفعاله وصدق الرسل كما فصلناه في الفهرست. وكل ذلك مهم لا محيص عنه لعاقل.- علم الکلام کی تعریف بیان کرنا۔
- علم الکلام کا مقصد سمجھنا۔
- علم عقیدہ کے چار بڑے موضوعات پہچاننا۔
- ہر مسلمان کے لیے علم عقیدہ کی اہمیت سمجھانا۔
اس علم کا مقصد اللہ تعالیٰ، اس کی صفات، افعال اور رسولوں کی صداقت پر دلیل قائم کرنا ہے۔
ہر مسلمان اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن تاریخ میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے: • کیا اللہ تعالیٰ موجود ہے؟ • ہم اس کے وجود کو کیسے جانتے ہیں؟ • اللہ کی صفات کیا ہیں؟ • انبیاء کیوں بھیجے گئے؟ • نبی کی سچائی کیسے ثابت ہوتی ہے؟ • موت کے بعد کیا ہوگا؟ علمِ کلام ان سوالات کا عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے جواب دیتا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کے مطابق اس علم کا مقصد محض بحث و مباحثہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وجود، صفات، افعال اور رسولوں کی صداقت کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنا ہے۔ یہی علمِ کلام کے بنیادی موضوعات ہیں۔
اس تصور کا کیا فائدہ ہے؟
اس اصول کو سمجھنے سے تنقیدی اور تجزياتی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔
ابھی مثالیں شامل نہیں کی گئیں۔
- علمِ کلام اسلامی عقائد کا علم ہے۔
- یہ اسلامی عقائد کو دلیل اور استدلال کے ذریعے ثابت کرتا ہے۔
- امام غزالی کے مطابق اس علم کا مقصد اللہ تعالیٰ کے وجود، صفات، افعال اور رسولوں کی صداقت کو ثابت کرنا ہے۔
- یہ چار موضوعات اہل سنت علم عقیدہ کی بنیاد ہیں۔
- علمِ کلام مسلمان کو اپنے ایمان کو سمجھنے اور اعتماد کے ساتھ بیان کرنے میں مدد دیتا ہے۔