ولا نعني بقولنا قديم إلا أن وجوده غير مسبوق بعدمالعالم إما حادث وإما قديم. ولا نعني بقولنا قديم إلا أن وجوده غير مسبوق بعدم.- حادث اور قدیم کی اصطلاحات کی تعریف کرنا۔
- آغاز رکھنے والی اور بے آغاز چیزوں میں فرق کرنا۔
- یہ بیان کرنا کہ متکلمین وجود کو حادث اور قدیم میں کیوں تقسیم کرتے ہیں۔
- یہ سمجھنا کہ صرف اللہ تعالیٰ حقیقی طور پر قدیم ہے۔
قدیم سے مراد یہ ہے کہ اس کا وجود عدم سے مسبوق نہ ہو۔
علمِ کلام کے اہم سوالات میں سے ایک سوال یہ ہے: کیا یہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے یا کسی وقت وجود میں آئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے متکلمین وجود کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ 1. حادث حادث وہ چیز ہے جو پہلے موجود نہ تھی، پھر وجود میں آئی، اور جس کا آغاز ہو۔ مثالیں: انسان، درخت، پہاڑ، عمارت۔ یہ سب پہلے موجود نہیں تھے، پھر وجود میں آئے۔ 2. قدیم قدیم وہ ہے جس کا کوئی آغاز نہ ہو، جو کبھی معدوم نہ رہا ہو، اور جس کا وجود عدم سے مسبوق نہ ہو۔ اسلامی عقیدے کے مطابق صرف اللہ تعالیٰ قدیم ہے۔ اس کے علاوہ ہر چیز حادث ہے۔ یہ فرق کیوں اہم ہے؟ اگر کوئی چیز وجود میں آنا شروع ہو تو ہم فطری طور پر پوچھتے ہیں کہ وہ کیوں شروع ہوئی اور کس سبب سے وجود میں آئی۔ لیکن جو چیز قدیم ہو، اس کے لیے آغاز کی ضرورت نہیں۔ یہی فرق وجودِ باری تعالیٰ کے بہت سے کلامی دلائل کی بنیاد بنتا ہے۔ روزمرہ مثال: ایک گھر پہلے موجود نہیں تھا۔ معماروں نے اسے بنایا۔ اب وہ موجود ہے۔ لہٰذا گھر حادث ہے۔ گھر، درخت، یا انسان قدیم نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ سب وجود میں آنا شروع ہوتے ہیں۔
اس تصور کا کیا فائدہ ہے؟
اس اصول کو سمجھنے سے تنقیدی اور تجزياتی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔
بيت، شجرة، إنسان، جبل
گھر, درخت, انسان, پہاڑ
- متکلمین وجود کو حادث اور قدیم میں تقسیم کرتے ہیں۔
- حادث چیز عدم کے بعد وجود میں آتی ہے۔
- قدیم کا کوئی آغاز نہیں ہوتا۔
- کائنات کی ہر چیز حادث دکھائی دیتی ہے۔
- صرف اللہ تعالیٰ حقیقی طور پر قدیم ہے۔
- حادث اور قدیم کا فرق تغیر اور حدوث کی بحث کے لیے بنیاد بنتا ہے۔