Natural Science for Madrasa Students

Module 01Lesson 01

What Is Science?

اسلامی وجودیات، علمیات اور جدید تجرباتی علوم کی روشنی میں

تمہید: ہم کس کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہوتا ہے، روشنی زمین تک پہنچتی ہے، ہوا چلتی ہے، بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے، زمین سے پودے اُگتے ہیں اور انسان کے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ ایک طالبِ علم دو طرح کے سوالات کرتا ہے: یہ واقعات کس طرح پیش آتے ہیں، اور اس کائنات کا خالق کون ہے اور اس کا وجود کس پر منحصر ہے؟ پہلے سوال کا جواب مشاہدہ، تجربہ، پیمائش اور عقلی تجزیے سے تلاش کیا جاتا ہے۔ دوسرے سوال میں عقل، وحی اور علمِ کلام کی بحث شامل ہوتی ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق عالم خودمختار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ لہٰذا مسلمان طالبِ علم کے لیے طبیعت کا مطالعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور نظامِ تخلیق کے آثار سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ سائنس وقوع کے مشاہدہ پذیر طریقوں کو دریافت کرتی ہے؛ خالق سے وجودی نسبت عقیدہ و وجودیات سے متعلق ہے۔

قرآنی آیت

اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
الزمر 39:62

سائنس کی تعریف: اسلامی علمی تناظر میں

عام سائنسی اصطلاح میں سائنس طبعی دنیا کا منظم، مشاہداتی اور تجرباتی مطالعہ ہے۔ اسلامی تدریسی تعریف: سائنس اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کائنات میں اس کی قدرت اور حکمت کے تحت وقوع پذیر ہونے والے طبیعی مظاہر، ان کے باہمی تعلقات اور ان میں پائی جانے والی باقاعدگیوں کا مشاہداتی، تجرباتی اور عقلی مطالعہ ہے۔ یہ ایک اسلامی تدریسی تعریف ہے، عالمی متفقہ اصطلاح نہیں۔ عناصر: خلق، مظاہرِ طبیعت، انتظام و باقاعدگی، مشاہدہ و تجربہ، عقل و استدلال۔ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات یا فعل کی کیفیت کو تجربہ گاہ میں نہیں ناپتے بلکہ مخلوق میں قابلِ مشاہدہ آثار کا مطالعہ کرتے ہیں۔

عربی تعریف

العِلْمُ الطَّبِيعِيُّ هُوَ الدِّرَاسَةُ المُنَظَّمَةُ لِلظَّوَاهِرِ الطَّبِيعِيَّةِ وَالعَلَاقَاتِ وَالِانْتِظَامَاتِ المَشْهُودَةِ فِي العَالَمِ الَّذِي خَلَقَهُ اللّٰهُ تَعَالَى، بِوَاسِطَةِ المُلاحَظَةِ وَالتَّجْرِبَةِ وَالِاسْتِدْلَالِ العَقْلِيِّ

English Definition

Natural science is the systematic, observational, experimental, and rational study of natural phenomena, relationships, and regularities in the world created by Allah.

سائنس کی تدریسی تعریف

دِرَاسَةُ الظَّوَاهِرِ الطَّبِيعِيَّةِ بِالْمُلَاحَظَةِ وَالتَّجْرِبَةِ وَالِاسْتِدْلَالِ

طبیعی مظاہر کا مشاہدے، تجربے اور استدلال کے ذریعے منظم مطالعہ

عالمِ طبیعت: مخلوق، نہ کہ خودمختار حقیقت

پانی، ہوا، مٹی، روشنی، انسان، نباتات اور اجرامِ فلکی سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ یہ احتیاج صرف آغازِ تخلیق تک محدود نہیں بلکہ وجود اور بقا میں بھی ہے۔ علمِ کلام میں وجود، حدوث، امکان، افتقار اور قدرتِ الٰہی کے مباحث اسی تناظر میں آتے ہیں۔ خالق: وجود عطا کرنے والا؛ مخلوق: پیدا کردہ؛ حدوث: عدم کے بعد وجود؛ افتقار: احتیاج؛ قدرتِ الٰہی: اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدرت؛ حکمتِ الٰہی: اس کے افعال کا حکمت سے متصف ہونا۔ پانی کی کیمیائی ساخت جان لینا اس کی مخلوق ہونے کی نفی نہیں کرتا۔

قرآنی آیت

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
فاطر 35:15

کائنات میں باقاعدگی: عادتِ الٰہیہ اور نظمِ طبیعت

عام فضائی دباؤ پر خالص پانی تقریباً 100°C پر ابلتا ہے، زمین کے قریب چھوڑا گیا پتھر نیچے گرتا ہے اور روشنی مخصوص طبیعی حالات میں متعین رفتار سے سفر کرتی ہے۔ سائنس ان باقاعدگیوں کو ناپتی اور بیان کرتی ہے۔ اشعری علمِ کلام میں عادتِ الٰہیہ کے ذریعے اس نظم کی توضیح ملتی ہے؛ اس سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی طبیعی قانون کی پابند ہے۔ ماتریدی روایت میں بھی خالقیت اور افتقار بنیادی اصول ہیں، تاہم اسباب کی تاثیر کے مباحث میں علما کے مابین تفصیلات اور اختلافات ہیں۔ پانی کے ابلنے کی طبیعی توضیح اس کی شرائط بیان کرتی ہے، جبکہ اسلامی وجودی توضیح پانی، حرارت اور ان کی خصوصیات کو مخلوق سمجھتی ہے۔ دونوں دائرے الگ ہونے کے باوجود مربوط ہیں۔

طبیعی باقاعدگی کی مثالیں

مشاہدہمناسب شرطسائنسی توضیح
پانی کا ابلناعام فضائی دباؤتقریباً 100°C
پتھر کا گرنازمین کے قریبکششِ ثقل
روشنی کی حرکتمتعین طبیعی حالاتقابلِ پیمائش رفتار

ہم علم کیسے حاصل کرتے ہیں؟ اسلامی علمیات

اسلامی علمی روایت میں حواسِ سلیمہ، عقل اور خبرِ صادق اہم ذرائعِ علم ہیں۔ حواس سے مشاہدہ اور پیمائش، عقل سے استدلال، اور خبرِ صادق کے باب میں معتبر خبر، وحی اور تواتر کے متعلقہ مباحث آتے ہیں۔ خوردبین اور دوسرے آلات حسی مشاہدے کو وسعت دیتے ہیں۔ پانی کی کثافت جاننے کے لیے پیمائش درکار ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لیے وحی اور عقلی استدلال کی اپنی حیثیت ہے۔ تمام سائنسی نتائج براہِ راست آنکھ سے دیکھے ہوئے نہیں ہوتے؛ بالواسطہ شواہد، آلات اور ریاضیاتی نمونے بھی اہم ہیں۔ ہر ذریعۂ علم کو اس کے مناسب دائرے میں استعمال کرنا چاہیے۔

علم حاصل کرنے کے ذرائع

  1. حواسِ سلیمہ

    مشاہدہ اور پیمائش

  2. عقل

    تجزیہ اور استدلال

  3. خبرِ صادق

    معتبر خبر کے متعلقہ مباحث

مشاہدہ، تجربہ اور استدلال

مشاہدہ کسی واقعے کے متعلق منظم معلومات جمع کرنا ہے۔ تجربہ کسی قابلِ آزمائش مفروضے کے لیے مناسب حالات قائم کرکے عوامل کا جائزہ لینا ہے۔ استدلال معلومات سے منطقی نتیجہ اخذ کرنا ہے۔ مثال کے طور پر دھوپ میں کپڑوں کا جلد خشک ہونا مشاہدہ ہے۔ درجۂ حرارت اور تبخیر کا تعلق جانچنے کے لیے یکساں کپڑوں، پانی کی مقدار اور مختلف حرارتی حالات کے ساتھ تحقیق کی جاسکتی ہے۔ یہ طبیعی تعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں موجود نظم کا حصہ ہے، لیکن اس عقیدے سے درست پیمائش اور تجرباتی دیانت کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔

مشاہدہ، تجربہ اور استدلال کا فرق

طریقہتعریفعمل
مشاہدہمنظم معلومات جمع کرنادیکھنا اور پیمائش کرنا
تجربہمفروضے کی جانچمناسب حالات قائم کرنا
استدلالشواہد سے نتیجہ اخذ کرناتجزیہ کرنا

سائنسی طریقۂ تحقیق

سائنسی تحقیق میں عموماً سوال، مفروضہ، شواہد، تجزیہ اور نتائج کی جانچ شامل ہوتی ہے، اگرچہ ہر تحقیق ایک ہی ترتیب کی پابند نہیں۔ روشنی کے پودے کی نشوونما پر اثر کی جانچ کے لیے یکساں پودوں کو یکساں پانی اور مٹی دے کر روشنی کی مقدار مختلف رکھی جاسکتی ہے۔ مقررہ مدت میں نمو ناپ کر نتائج کا تقابل کیا جاتا ہے۔ دوسری شرائط کا لحاظ ضروری ہے ورنہ نتیجہ غلط ہوسکتا ہے۔ اسلامی تناظر میں پودے کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی تخلیق و تدبیر کے تحت ہوتی ہے؛ سائنسی تحقیق اس کے مشاہدہ پذیر طریقے اور شرائط واضح کرتی ہے۔

سائنسی تحقیق کا عمومی خاکہ

سوال

کس بات کی تحقیق مطلوب ہے؟

مفروضہ

قابلِ آزمائش تجویز

مشاہدہ یا تجربہ

شواہد جمع کرنا

تجزیہ

نتائج کا جائزہ

نتیجہ اور نظرِ ثانی

شواہد کی روشنی میں جانچ

سائنسی قانون اور قانونِ الٰہی میں فرق

سائنسی قانون کسی طبیعی تعلق یا باقاعدگی کا عمومی بیان ہے۔ نیوٹن کے قوانین بعض شرائط میں حرکت کی ریاضیاتی توضیح دیتے ہیں؛ نیوٹن نے اس تعلق کو پیدا نہیں کیا۔ قانون کی دریافت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ طبیعی نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مستقل ہوگیا۔ سائنسی قانون مشاہدات اور پیمائش سے مرتب انسانی علمی بیان ہے اور اس کے دائرۂ اطلاق کی شرائط ہوتی ہیں؛ اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور قدرت اسلامی عقیدے کا موضوع ہے۔ ان میں مصنوعی تصادم پیدا کرنے کے بجائے دونوں کی علمی حیثیت پہچاننی چاہیے۔

سائنس کی شاخیں اور ان کا اسلامی مطالعہ

طبیعیات حرکت، قوت، توانائی اور روشنی کا مطالعہ کرتی ہے؛ کیمیا مادے کی ساخت اور تبدیلیوں کا؛ حیاتیات جانداروں اور ان کے افعال کا؛ ارضیات زمین اور اس کی ساخت کا؛ فلکیات سیاروں اور ستاروں کا۔ مسلمان طالبِ علم ان سب کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے مختلف پہلو سمجھ کر پڑھ سکتا ہے۔ تاہم اسلامی فکری نسبت کسی شاخ کی تجرباتی تعریف کا متبادل نہیں۔ سیارے کی حرکت معلوم کرنے کے لیے مشاہدہ اور حساب ضروری ہیں؛ اسے مخلوق سمجھنا مربوط مگر جدا وجودی اعتقاد ہے۔

علومِ طبیعت کی بنیادی شاخیں

  1. طبیعیات

    حرکت، قوت، توانائی، روشنی

  2. کیمیا

    مادہ، ساخت، تبدیلیاں

  3. حیاتیات

    جاندار اور ان کے افعال

  4. ارضیات

    زمین اور اس کی ساخت

  5. فلکیات

    اجرامِ فلکی

اسلامی تہذیب میں علومِ طبیعت

ابن الہیثم نے بصریات میں مشاہدے اور استدلال پر کام کیا؛ البیرونی نے فلکیات، جغرافیہ اور پیمائش میں خدمات انجام دیں؛ ابن النفیس نے خون کی پھیپھڑوں سے متعلق گردش کی توضیح پیش کی۔ یہ مثالیں مسلم علمی تاریخ میں طبیعت کے مطالعے کی اہمیت ظاہر کرتی ہیں۔ تاریخی تحقیقات کو ان کے زمانے کے شواہد کے مطابق سمجھنا چاہیے، نہ کہ ہر قدیم نظریے کو جدید سائنس کے مطابق یا قطعی درست قرار دینا چاہیے۔

اسلامی تہذیب میں علومِ طبیعت

  1. ابن الہیثم

    بصریات، مشاہدہ اور استدلال

  2. البیرونی

    فلکیات، جغرافیہ اور پیمائش

  3. ابن النفیس

    دورانِ خون کی توضیح

سائنس، طبعیت پرستی اور مادیت

سائنس طبیعی مظاہر کے قابلِ تحقیق تعلقات سمجھتی ہے۔ طریقہ جاتی طبعیت پرستی میں سائنسی تحقیق کے دوران قابلِ آزمائش طبیعی توضیحات تلاش کی جاتی ہیں۔ مابعد الطبیعیاتی طبعیت پرستی ایک اضافی فلسفیانہ موقف ہے جو حقیقت کو طبیعت تک محدود سمجھتا ہے۔ مادیت حقیقت کی بنیادی نوعیت کو مادی قرار دینے والے نظریات سے متعلق ہے۔ مثال: ضیائی تالیف میں روشنی کی توانائی استعمال ہوتی ہے، یہ سائنسی دعویٰ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ کہ کوئی خالق نہیں، منطقی طور پر لازم نہیں آتا؛ اس کے لیے الگ فلسفیانہ دلیل چاہیے۔ اسی طرح سائنسی علم کی کسی موجودہ کمی کو مخصوص مذہبی دعوے کا تجرباتی ثبوت بھی نہیں کہنا چاہیے۔

سائنس اور فلسفیانہ دعووں کا فرق

اصطلاحموضوع
طبیعی سائنسقابلِ تحقیق طبیعی مظاہر
طریقہ جاتی طبعیت پرستیتحقیق میں قابلِ آزمائش طبیعی توضیحات
مابعد الطبیعیاتی طبعیت پرستیحقیقت کے متعلق اضافی فلسفیانہ دعویٰ

سائنس اور علمِ کلام کا تعلق

علمِ کلام میں اللہ تعالیٰ کے وجود، صفات، قدرت، ارادے، تخلیق اور مخلوق کی احتیاج جیسے مباحث ہوتے ہیں۔ علومِ طبیعت میں مادہ، حرکت، توانائی اور طبیعی مظاہر کا مطالعہ ہوتا ہے۔ سائنس پوچھتی ہے کہ حرکت کن قابلِ پیمائش عوامل سے متعلق ہے؛ کلام یہ بھی پوچھتا ہے کہ جسم، خصوصیات اور تعلقات کی وجودی حیثیت کیا ہے۔ اشعری اور ماتریدی مباحث میں اسباب اور قدرت کے بارے میں مختلف تفصیلات ہیں؛ ان کو ایک موقف میں ضم کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہے۔

علومِ طبیعت اور علمِ کلام

علومِ طبیعتعلمِ کلام
مادہ، حرکت، توانائیوجود، صفات اور قدرتِ الٰہی
طبیعی تعلقات کی تحقیقتخلیق اور مخلوق کی احتیاج کے مباحث

سائنسی مطالعے کے اخلاقی آداب

اسلامی تصورِ علم میں دیانت، ذمہ داری اور حدودِ علم کا اعتراف ضروری ہے۔ طالبِ علم نتائج درست لکھے، غلطی تسلیم کرے، بلا دلیل دعویٰ نہ کرے اور دوسروں کی تحقیق کی صحیح نسبت دے۔ قرآن میں ارشاد ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (الإسراء 17:36)۔ تجربے کا نتیجہ توقع کے خلاف آئے تو اسے بدلنے کے بجائے دوبارہ جانچنا چاہیے۔

خلاصۂ سبق

کائنات اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اپنے وجود و بقا میں اس کی محتاج ہے۔ سائنس اس میں پائے جانے والے طبیعی مظاہر اور باقاعدگیوں کا منظم مطالعہ کرتی ہے۔ مشاہدہ، تجربہ، پیمائش اور عقل بنیادی تحقیقی ذرائع ہیں۔ طبیعی قوانین مشاہدہ شدہ تعلقات کے علمی بیانات ہیں، مستقل خالق نہیں۔ تجرباتی نتائج اور اضافی فلسفیانہ دعووں میں فرق ضروری ہے۔ مسلمان طالبِ علم کے لیے سائنس اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ مرکزی نتیجہ: ہم سائنس سے دریافت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ دنیا میں طبیعی واقعات کن مشاہدہ شدہ طریقوں، شرائط اور باقاعدگیوں کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔