Mantiq — Alimiyyah Grade 1

Module 01Lesson 02

Nature of Knowledge

Understand what knowledge is and distinguish the knower, knowledge and the known.

01Learning Outcomes
  • Understand core principles
02Primary Text
حقيقة العلم
Classical Text Reference
03Translation

Nature of Knowledge

04Explanation

Knowledge, the knower, and the known are three distinct terms. The knower is the one who knows, the known is what is known, and knowledge is the state or quality of knowing.

۱۔ علم کیا ہے؟

انسان اپنے گرد موجود اشیا، واقعات اور حالات کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کرتا رہتا ہے۔ وہ کسی چیز کو دیکھتا ہے، کسی آواز کو سنتا ہے، کسی بات کو سمجھتا ہے اور بعض اوقات پہلے سے معلوم باتوں پر غور کرکے کسی نئی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں انسان کے سامنے کوئی نہ کوئی چیز معلوم ہوتی ہے اور اس کا ذہن اس چیز سے متعلق ایک خاص کیفیت حاصل کرتا ہے۔ مثلاً ایک طالب علم اپنے سامنے رکھی ہوئی کتاب کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کتاب موجود ہے۔ وہ کتاب کا نام پڑھتا ہے تو اسے ایک دوسری بات معلوم ہوتی ہے۔ جب استاد اس کتاب کے کسی مسئلے کی وضاحت کرتا ہے تو طالب علم اس مسئلے کا مفہوم سمجھتا ہے۔ یہاں تینوں صورتوں میں معلومات حاصل ہوئی ہیں، لیکن ان کی نوعیت ایک جیسی نہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی چیز کا تصور ذہن میں آجانا ہی علم ہے، یا علم کے لیے اس سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے؟ علمِ منطق میں اس سوال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ منطق کا تعلق فکر اور استدلال سے ہے، اور فکر و استدلال کا عمل پہلے سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔

۲۔ علم کی ابتدائی تعریف

یہ علم کی ایک معروف توضیحی تعریف ہے، جس کے ذریعے علم اور حقیقت کے درمیان تعلق واضح کیا جاتا ہے۔ البتہ منطق اور علمِ کلام کی کتابوں میں علم کی تعریف کے مختلف صیغے ملتے ہیں، اور ان میں ادراک، یقین، مطابقت اور دوسرے مباحث کے اعتبار سے تفصیل پائی جاتی ہے۔ اس ابتدائی مرحلے میں ہمارے لیے یہ سمجھنا کافی ہے کہ علم کا تعلق کسی چیز کو جاننے سے ہے۔ جب کسی چیز کے متعلق ہمارا فہم اس کی حقیقت کے مطابق ہو تو اسے صحیح معرفت کہا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی برتن میں پانی موجود ہے اور ایک شخص جانتا ہے کہ اس میں پانی ہے، تو اس کی معلومات حقیقت کے مطابق ہیں۔ لیکن اگر برتن خالی ہے اور وہ اسے پانی سے بھرا ہوا سمجھتا ہے، تو اس کا خیال حقیقت کے مطابق نہیں۔ یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے: کسی بات کا ذہن میں موجود ہونا اور اس بات کا درست ہونا دو الگ امور ہیں۔

۳۔ تعریف کے بنیادی الفاظ

اس تعریف میں لفظ إِدْرَاكُ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ادراک سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز انسان کے شعور یا ذہن کے سامنے کسی نہ کسی طور پر معلوم ہوجائے۔ تاہم ہر ادراک کو یکساں درجے کا علم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کبھی انسان کسی چیز کو درست طور پر سمجھتا ہے، کبھی غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے، اور کبھی کسی معاملے کے بارے میں اسے صرف احتمال حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے منطقی بحث میں علم کے ساتھ جہل، شک، ظن اور یقین جیسے تصورات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔

۴۔ علم، معلوم اور عالم

علم کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے تین اصطلاحات میں فرق کرنا مفید ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک طالب علم یہ جانتا ہے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس مثال میں طالب علم عالم ہے، اس کے جاننے کی کیفیت علم ہے، اور زمین کی گردش سے متعلق حقیقت معلوم ہے۔ یہ فرق اس لیے ضروری ہے کہ بعض اوقات انسان علم اور معلوم کو ایک ہی چیز سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ کسی حقیقت کا خارج میں موجود ہونا اور انسان کا اس حقیقت کو جاننا دو الگ اعتبارات ہیں۔ مثلاً کسی دور دراز ستارے کا وجود انسان کے اس کو دریافت کرنے سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ انسان کی دریافت سے ستارے کا وجود پیدا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو اس کے متعلق علم حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح علم کا تعلق انسان کی معرفت سے ہے، جبکہ معلوم وہ چیز ہے جس کی معرفت حاصل کی جاتی ہے۔

۵۔ علم اور محض خیال میں فرق

انسانی ذہن میں ہر وقت مختلف خیالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بعض خیالات مشاہدے پر مبنی ہوتے ہیں، بعض کسی دوسرے شخص کی خبر سے حاصل ہوتے ہیں، اور بعض محض تخیل یا اندازے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک طالب علم تصور کرتا ہے کہ اس کے مدرسے کے صحن میں ایک درخت موجود ہے۔ اگر واقعی وہاں درخت موجود ہے اور اس نے اسے دیکھا ہے تو اس کا تصور ایک حقیقی چیز سے متعلق ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی درخت نہیں اور اس نے صرف اپنے ذہن میں ایک درخت کا نقشہ بنایا ہے تو اس کے ذہن میں تصور ضرور موجود ہے، مگر اس تصور سے خارج میں درخت کا وجود ثابت نہیں ہوتا۔ اس مثال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذہن میں کسی چیز کا تصور پیدا ہونا بذاتِ خود اس چیز کے خارجی وجود کی دلیل نہیں۔ یہاں ایک اور احتیاط بھی ضروری ہے۔ ہر تصور کا خارجی مصداق ہونا ضروری نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غیر محسوس یا غیر مشاہد چیز غیر حقیقی ہے۔ کسی چیز کے وجود یا عدمِ وجود کا فیصلہ متعلقہ دلائل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ براہِ راست نظر آتی ہے یا نہیں۔

۶۔ علم کی دو بنیادی صورتیں: تصور اور تصدیق

منطق میں علم کی ایک اہم تقسیم تصور اور تصدیق کی ہے۔ جب ہم لفظ انسان سنتے ہیں اور ہمارے ذہن میں انسان کا مفہوم آتا ہے تو یہ تصور کی مثال ہے۔ اس مرحلے پر ہم نے انسان کے متعلق کوئی بات درست یا غلط قرار نہیں دی۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ انسان جاندار ہے تو یہاں دو مفاہیم کے درمیان ایک نسبت قائم کی گئی اور اس نسبت کے متعلق حکم دیا گیا۔ اسے تصدیق کہتے ہیں۔ تصور اور تصدیق کی یہ تقسیم علمِ منطق کے آئندہ مباحث کی بنیاد ہے۔ تعریف کے ذریعے تصورات کو واضح کیا جاتا ہے، جبکہ قضایا اور استدلال کے ذریعے تصدیقات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

۷۔ علم کی صحت کا سوال

یہاں تک ہم نے علم کی حقیقت، اس کے بنیادی عناصر اور اس کی ابتدائی اقسام کو سمجھا۔ اب ایک اہم سوال باقی رہتا ہے: انسان کو کیسے معلوم ہو کہ اس کا علم صحیح ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان کبھی غلط دیکھ سکتا ہے، کسی خبر کو غلط سمجھ سکتا ہے یا استدلال میں ایسی غلطی کرسکتا ہے جس کی وجہ سے اس کا نتیجہ درست نہ ہو۔ مثلاً دور سے کسی چیز کو دیکھ کر انسان اسے پانی سمجھ سکتا ہے، لیکن قریب جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانی نہیں تھا۔ اسی طرح کوئی شخص دو درست معلومات رکھتا ہو، لیکن ان کے درمیان غلط تعلق قائم کرکے غلط نتیجہ نکال لے۔ اس لیے علم کی صحت کا مسئلہ صرف معلومات جمع کرنے سے حل نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ معلومات کس ذریعے سے حاصل ہوئیں، ان کی صحت کی کیا دلیل ہے اور ان سے نتیجہ نکالنے کا طریقہ درست ہے یا نہیں۔ علمِ منطق خصوصاً فکر اور استدلال کی درستی کے اصول فراہم کرتا ہے۔ تاہم کسی خبر کی تاریخی صحت یا کسی تجرباتی دعوے کی حقیقت جانچنے کے لیے متعلقہ علمی ذرائع بھی ضروری ہوتے ہیں۔

۸۔ خلاصۂ سبق

اس سبق میں ہم نے علم کی حقیقت کا ابتدائی تعارف حاصل کیا۔ اگلے سبق علم کی صحت میں ہم اس سوال پر مزید غور کریں گے کہ کسی دعوے کو صحیح یا غلط قرار دینے کے لیے کن اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

05Examples
01
Primary Example

التصور: إدراك الكتاب. التصديق: الكتاب مفيد.

Concept: Understanding 'Book'. Judgement: 'The book is beneficial.'

06Key Vocabulary
01التَّصَوُّر
Tasawwur (Conception)

Understanding a single concept without making a judgement.

02التَّصْدِيق
Tasdeeq (Judgement)

Making an affirmative or negative judgement about a relation.

07Lesson Summary
  • Tasawwur is understanding a single concept without making a judgement.
  • Tasdeeq is making a judgement about a relation between two concepts.