العلوم الطبيعية لطلاب المدارس الدينية

الوحدة 01الدرس 02

Scientific Method

سائنس میں کسی دعوے کو صرف اس لیے درست نہیں مان لیا جاتا کہ وہ مشہور ہے۔ سائنسی طریقۂ کار ایک منظم علمی عمل ہے جس میں سوال متعین کیا جاتا ہے، متعلقہ شواہد جمع کیے جاتے ہیں، قابلِ آزمائش مفروضہ قائم کیا جاتا ہے، مناسب تجربہ یا مشاہدہ کیا جاتا ہے، نتائج کا تجزیہ ہوتا ہے اور نتیجہ شواہد کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کا مقصد کسی بات کو پہلے سے درست ثابت کرنا نہیں بلکہ معلوم کرنا ہے کہ دستیاب شواہد کس توضیح کی تائید کرتے ہیں۔

عربی: المَنْهَجُ العِلْمِيُّ طَرِيقَةٌ مُنَظَّمَةٌ لِدِرَاسَةِ الظَّوَاهِرِ بِالْمُلَاحَظَةِ وَوَضْعِ الفُرُوضِ وَاخْتِبَارِهَا وَتَحْلِيلِ النَّتَائِجِ۔ اردو: سائنسی طریقۂ کار وہ منظم طریقہ ہے جس میں طبیعی مظاہر کے بارے میں سوالات کو مشاہدے، پیمائش، مفروضے، تجربے اور عقلی تجزیے سے جانچا جاتا ہے۔ English: The scientific method is a systematic process of asking questions, gathering evidence, testing hypotheses, analyzing results, and revising explanations.

تحقیق کا آغاز ایک واضح سوال سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: کیا روشنی کی مقدار پودے کی بڑھوتری پر اثر ڈالتی ہے؟ یہ سوال اس لیے مفید ہے کہ روشنی اور بڑھوتری دونوں کو مناسب طریقے سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس بہت مبہم سوال، مثلاً پودے کیوں اچھے ہوتے ہیں، تحقیق کے لیے کافی واضح نہیں۔ اچھا تحقیقی سوال محدود، قابلِ فہم اور قابلِ جانچ ہوتا ہے۔

مشاہدہ حواس یا آلات کی مدد سے کسی مظہر کو منظم انداز میں دیکھنے اور درج کرنے کا نام ہے۔ مشاہدہ محض دیکھ لینا نہیں؛ اس میں وقت، مقام، حالات اور پیمائش کا ریکارڈ رکھنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر ہر روز ایک ہی وقت پر پودے کی اونچائی ناپنا زیادہ قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے۔ مشاہدہ اور تعبیر میں فرق ضروری ہے: پتے پیلے ہیں ایک مشاہدہ ہے، جبکہ پتے پانی کی کمی سے پیلے ہیں ایک ممکنہ تعبیر ہے جسے مزید جانچنا ہوگا۔

مفروضہ کسی سوال کا ایسا عارضی جواب ہے جس سے قابلِ جانچ پیش گوئی اخذ کی جا سکے۔ مثال: اگر یکساں قسم کے پودوں کو مختلف مقدار میں روشنی ملے تو ان کی بڑھوتری میں قابلِ پیمائش فرق آئے گا۔ مفروضہ آخری حقیقت نہیں بلکہ آزمائش کے لیے پیش کردہ توضیح ہے۔ شواہد اس کی تائید بھی کر سکتے ہیں اور اس کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔ مفروضہ غلط ثابت ہو تو یہ تحقیق کی ناکامی نہیں؛ یہ نئی معلومات کا حصول ہے۔

متغیر وہ عامل ہے جس کی قدر بدل سکتی ہے۔ آزاد متغیر وہ عامل ہے جسے محقق بدلتا ہے، مثلاً روزانہ روشنی کے گھنٹے۔ تابع متغیر وہ نتیجہ ہے جسے ناپا جاتا ہے، مثلاً پودے کی اونچائی۔ قابو میں رکھے جانے والے عوامل میں پودے کی قسم، پانی، مٹی، برتن اور درجہ حرارت شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر روشنی کے ساتھ پانی بھی بدل جائے تو معلوم کرنا مشکل ہو گا کہ بڑھوتری پر کس عامل کا اثر پڑا۔ اسی لیے مناسب تقابل یا کنٹرول ضروری ہے۔

تجربہ شروع کرنے سے پہلے سامان، مراحل، مدت، پیمائش کی اکائی اور نتائج لکھنے کا طریقہ طے کیا جاتا ہے۔ دو گروہوں میں یکساں قسم کے پودے رکھیں؛ ایک گروہ کو مناسب معمول کی روشنی اور دوسرے کو کم روشنی دیں۔ پانی اور مٹی کی مقدار یکساں رکھیں، اور مقررہ دنوں میں اونچائی ناپیں۔ صرف ایک پودا استعمال کرنے سے اتفاقی فرق نتیجے کو متاثر کر سکتا ہے؛ متعدد نمونے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔ تجربے میں حفاظت، دیانت داری اور قابلِ تکرار طریقے کا خیال رکھنا لازم ہے۔

سائنسی نتیجے میں صرف زیادہ یا کم کہنا کافی نہیں ہوتا؛ جہاں ممکن ہو اعداد اور اکائیاں لکھی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سات دن میں پودے کی اونچائی ۸ سینٹی میٹر سے ۱۰ سینٹی میٹر ہوئی۔ اعداد کو جدول میں درج کرنے سے گروہوں کا تقابل آسان ہوتا ہے۔ پیمائش میں غلطی ممکن ہے، اس لیے ایک ہی طریقے اور آلے سے بار بار ناپنا، غیر معمولی نتائج کی جانچ کرنا اور پیمائش کی حدود بتانا ضروری ہے۔

اعداد جمع کرنے کے بعد ان میں رجحان، فرق اور ممکنہ تعلق تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر مناسب روشنی والے گروہ کی اوسط بڑھوتری زیادہ ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ اس تجربے میں روشنی کی مقدار اور بڑھوتری کے درمیان تعلق ملا۔ لیکن یہ نتیجہ ہر قسم کے پودے، ہر موسم اور ہر ماحول کے لیے لازماً یکساں نہیں ہوگا۔ نتیجے میں یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ شواہد کیا دکھاتے ہیں، کیا نہیں دکھاتے، اور تحقیق کی حدود کیا ہیں۔

سائنسی علم قابلِ اصلاح ہوتا ہے۔ دوسرے محققین جب ایک تجربہ دہراتے ہیں تو اس کی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے۔ طریقہ واضح نہ ہو یا اہم حالات درج نہ کیے گئے ہوں تو نتیجہ جانچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نئے شواہد آنے پر مفروضہ، پیمائش یا توضیح بدلنا علمی دیانت کا تقاضا ہے۔ غلطی چھپانے کے بجائے اس کی نشاندہی کرنا تحقیق کی خوبی ہے۔

دو چیزوں کا ایک ساتھ بدلنا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ ایک دوسری کا سبب ہے۔ مثال کے طور پر گرمی کے موسم میں ٹھنڈے مشروبات اور بجلی کا استعمال دونوں بڑھ سکتے ہیں؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کو بڑھاتا ہے۔ دونوں کے پیچھے موسم جیسا تیسرا عامل ہو سکتا ہے۔ سبب معلوم کرنے کے لیے مناسب تجربہ، متبادل توضیحات کی جانچ اور مستقل شواہد ضروری ہیں۔

ماڈل کسی پیچیدہ مظہر کی آسان نمائندگی ہے، جیسے پانی کے چکر کا خاکہ۔ سائنسی نظریہ محض بے بنیاد اندازہ نہیں بلکہ مختلف مشاہدات اور تجربات کی مدد سے قائم ہونے والی منظم توضیح ہے۔ ماڈل اور نظریہ دونوں اپنی حدود رکھتے ہیں۔ وہ مظاہر کو سمجھنے اور پیش گوئی کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن نئے شواہد کے مطابق بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

طبیعی دنیا کے قابلِ مشاہدہ پہلوؤں کے مطالعے میں حواس، تجربہ، پیمائش اور عقل اہم ذرائع ہیں۔ اسلامی علمی روایت میں بھی عقل، مشاہدہ اور معتبر خبر کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔ سائنسی تجربہ یہ بتا سکتا ہے کہ پانی کن حالات میں ابلتا ہے یا روشنی پودوں کی بڑھوتری پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؛ خالق، غایت اور وجود کی بنیادی حقیقت جیسے سوالات محض تجربہ گاہ کے پیمانوں سے حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے فلسفیانہ اور کلامی استدلال کا الگ علمی دائرہ ہے۔ ان دونوں دائروں کو خلط ملط کیے بغیر سمجھنا درست علمی رویہ ہے۔

نتائج کو بدل کر لکھنا، ناپسندیدہ مشاہدات چھپانا یا دوسرے کے کام کو اپنے نام سے پیش کرنا علمی بددیانتی ہے۔ درست تحقیق میں ریکارڈ کی حفاظت، نتائج کی سچائی، انسانوں اور جانداروں کی سلامتی، وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور دوسروں کے کام کا حوالہ شامل ہے۔ کسی نتیجے کی غیر یقینی کیفیت کو صاف صاف بیان کرنا بھی دیانت داری ہے۔

سوال: کیا روشنی کم ہونے سے پودے کی بڑھوتری بدلتی ہے؟ مفروضہ: مناسب روشنی میں اگنے والے پودوں کی اوسط بڑھوتری کم روشنی والے پودوں سے مختلف ہوگی۔ آزاد متغیر: روشنی کی مدت۔ تابع متغیر: سینٹی میٹر میں بڑھوتری۔ مستقل عوامل: پانی، مٹی، پودے کی قسم اور تجربے کی مدت۔ طریقہ: دونوں گروہوں کی ابتدائی اونچائی درج کریں، ایک مقررہ مدت تک روزانہ یکساں وقت پر پیمائش کریں اور جدول بنائیں۔ تجزیہ: دونوں گروہوں کی اوسط بڑھوتری کا تقابل کریں۔ نتیجہ: صرف اپنے حاصل کردہ شواہد کے مطابق دعویٰ کریں؛ اگر فرق واضح نہ ہو تو اسے بھی دیانت داری سے لکھیں۔

سائنسی طریقۂ کار سوال، مشاہدہ، مفروضہ، تجربہ، پیمائش، تجزیہ اور نتیجے کے باہم مربوط مراحل کا نام ہے۔ یہ ہمیشہ ایک سخت سیدھی لکیر کی صورت میں نہیں چلتا؛ محقق کبھی نئے مشاہدے کی بنا پر پہلے مرحلے کی طرف لوٹتا ہے۔ اس طریقے کی اصل قوت قابلِ جانچ شواہد، واضح استدلال، تکرار اور اصلاح میں ہے۔

سائنسی تحقیق کا مرحلہ وار خاکہ

سوال

کیا جاننا ہے؟ — مسئلے کو واضح کرنا

مشاہدہ

کیا دکھائی دیتا ہے؟ — معلومات درج کرنا

مفروضہ

ممکنہ توضیح کیا ہے؟ — قابلِ جانچ پیش گوئی

تجربہ

کیسے جانچیں؟ — متغیرات قابو میں رکھنا

تجزیہ

اعداد کیا بتاتے ہیں؟ — تقابل اور استدلال

نتیجہ

کیا ثابت ہوا؟ — حدود کے ساتھ رپورٹ

سائنسی تحقیق کے مراحل

مرحلہبنیادی سوالعمل
سوالکیا جاننا ہے؟مسئلے کو واضح کرنا
مشاہدہکیا دکھائی دیتا ہے؟معلومات درج کرنا
مفروضہممکنہ توضیح کیا ہے؟قابلِ جانچ پیش گوئی
تجربہکیسے جانچیں؟متغیرات قابو میں رکھنا
تجزیہاعداد کیا بتاتے ہیں؟تقابل اور استدلال
نتیجہکیا ثابت ہوا؟حدود کے ساتھ رپورٹ

متغیرات کی مثال

قسممثالکردار
آزاد متغیرروشنی کی مدتجان بوجھ کر بدلا جاتا ہے
تابع متغیرپودے کی اونچائیناپا جاتا ہے
مستقل عواملپانی، مٹی، قسمیکساں رکھے جاتے ہیں