نحو میر

الوحدة 01الدرس 02

کلمہ، کلام اور مرکب کی تعریف

کلمہ، کلام اور مرکب کی تعریف

۱۔ کلمہ کی تعریف

عربی زبان میں ایسا لفظ جو کسی ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو، کلمہ کہلاتا ہے۔

الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ.

کلمہ وہ لفظ ہے جو کسی مفرد معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔ مثلاً:

زَيْدٌ

ایک شخص کا نام۔

كِتَابٌ

کتاب۔

كَتَبَ

اس نے لکھا۔ ان میں سے ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ہر ایک کلمہ ہے۔

۲۔ تعریف کے اجزاء کی وضاحت

لفظ: ایسی آواز جو حروفِ ہجاء پر مشتمل ہو۔ وضع: کسی لفظ کو ایک معنی کے لیے مقرر کرنا۔ محض بے معنی آواز اصطلاحی کلمہ نہیں کہلاتی۔ معنی مفرد: ایسا معنی جس میں مکمل کلام کی نسبتِ تامہ مقصود نہ ہو۔ یہاں مفرد سے مراد صرف ایک شخص یا ایک چیز نہیں، بلکہ نحوی اعتبار سے ایسا معنی ہے جو مکمل کلام کی نسبت پر مشتمل نہ ہو۔ مثلاً:

غُلَامُ زَيْدٍ

زید کا غلام۔ یہ دو کلمات کا مجموعہ ہے، اس لیے پورا مجموعہ ایک کلمہ نہیں، اگرچہ اس سے ایک متعین شخص مراد ہو سکتا ہے۔

۳۔ کلمہ کی بنیادی اقسام

عربی زبان میں کلمہ کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ اسم: ایسا کلمہ جو اپنے معنی پر دلالت کرے اور اس کے معنی میں زمانہ بنیادی طور پر شامل نہ ہو۔

رَجُلٌ — كِتَابٌ

پہلا لفظ ایک شخص اور دوسرا ایک چیز پر دلالت کرتا ہے۔ فعل: ایسا کلمہ جو کسی کام یا حالت پر دلالت کرے اور اس کے معنی میں زمانہ بھی شامل ہو۔

كَتَبَ — يَكْتُبُ

پہلا ماضی اور دوسرا مضارع کا صیغہ ہے۔ حرف: ایسا کلمہ جس کا مقصود معنی دوسرے کلمے کے ساتھ تعلق سے واضح ہوتا ہے۔

مِنْ — إِلَى — فِي

یہ حروف ابتدا، انتہا اور ظرفیت جیسے معانی ظاہر کرتے ہیں۔ اسم، فعل اور حرف کی تفصیلی تعریفات آئندہ اسباق میں بیان ہوں گی۔

۴۔ مرکب کی تعریف

جب دو یا دو سے زیادہ کلمات آپس میں اس طرح ملیں کہ ان کے درمیان کوئی نحوی تعلق قائم ہو جائے تو اس مجموعے کو مرکب کہتے ہیں۔

الْمُرَكَّبُ مَا تَرَكَّبَ مِنْ كَلِمَتَيْنِ فَصَاعِدًا.

مرکب وہ ہے جو دو یا دو سے زیادہ کلمات سے مل کر بنا ہو۔ مثلاً:

كِتَابُ زَيْدٍ

زید کی کتاب۔ اس ترکیب میں دو کلمات ہیں جن کے درمیان اضافت کا تعلق قائم ہے۔ پہلا مضاف اور دوسرا مضاف الیہ ہے۔ اسی طرح:

زَيْدٌ قَائِمٌ

زید کھڑا ہے۔ اس میں دو کلمات مل کر ایک مکمل جملہ بناتے ہیں۔ پہلا مبتدا اور دوسرا خبر ہے۔ دونوں مثالیں مرکب ہیں، لیکن ان کے مکمل مفہوم ادا کرنے میں فرق ہے۔

۵۔ کلام کی تعریف

نحو کی اصطلاح میں ہر مرکب کو کلام نہیں کہتے، بلکہ ایسا مرکب جو مکمل مفہوم ادا کرے، کلام کہلاتا ہے۔

الْكَلَامُ لَفْظٌ مُرَكَّبٌ مُفِيدٌ بِالْوَضْعِ.

کلام ایسا مرکب لفظ ہے جو زبان کے مقررہ استعمال کے مطابق مکمل فائدہ دے۔ مثلاً:

الْعِلْمُ نَافِعٌ

علم فائدہ مند ہے۔ یہ کلام ہے، کیونکہ سننے والے کو ایک مکمل بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لیکن:

إِنْ جَاءَ زَيْدٌ

اگر زید آیا... یہاں بات ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ سننے والا جاننا چاہتا ہے کہ زید کے آنے پر کیا ہوگا۔ اس لیے یہ مرکب تو ہے، لیکن اپنی موجودہ صورت میں مکمل کلام نہیں ہے۔

۶۔ کلمہ، مرکب اور کلام میں فرق

کلمہ ایک معنی کے لیے وضع شدہ لفظ ہے۔
عربی مثالتشریح
زَيْدٌمرکب دو یا زیادہ کلمات کا باہمی مجموعہ ہے۔
كِتَابُ زَيْدٍکلام ایسا مرکب ہے جو مکمل مفہوم ادا کرتا ہے۔
زَيْدٌ عَالِمٌاس سے تین باتیں معلوم ہوئیں: ہر کلمہ ضروری نہیں کہ مکمل کلام ہو۔ ہر مرکب ضروری نہیں کہ مکمل کلام ہو۔ ہر کلام مرکب ہوتا ہے، لیکن ہر مرکب کلام نہیں ہوتا۔

۷۔ ایک اہم نحوی نکتہ

بعض اوقات عربی میں صرف ایک لفظ بولا جاتا ہے، لیکن وہ مکمل کلام شمار ہوتا ہے۔ مثلاً:

اُكْتُبْ

لکھو! ظاہری طور پر یہ ایک ہی لفظ ہے، لیکن اس میں ایک پوشیدہ فاعل بھی موجود ہے جسے ضمیر مستتر کہتے ہیں۔ اس کی تقدیر ہے:

اُكْتُبْ أَنْتَ

یعنی: تم لکھو۔ اس لیے یہ جملہ ایک فعل اور اس کے اندر موجود پوشیدہ فاعل سے مکمل ہوتا ہے، اور کلام شمار کیا جاتا ہے۔ ہر کلام کا دو الگ الگ ظاہر الفاظ پر مشتمل ہونا لازم نہیں۔

۸۔ مرکب کی بنیادی تقسیم کا تعارف

مرکب کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ مرکب مفید: ایسا مرکب جو مکمل مفہوم ادا کرے۔

زَيْدٌ قَائِمٌ

زید کھڑا ہے۔ یہ ایک مکمل خبر ہے۔ مرکب غیر مفید: ایسا مرکب جو اپنے طور پر مکمل مفہوم ادا نہ کرے۔

غُلَامُ زَيْدٍ

زید کا غلام۔ یہ ایک شخص کی تعیین کرتا ہے، لیکن اس کے بارے میں مکمل خبر نہیں دیتا۔ ان دونوں کی تفصیلی تعریفات اور قواعد اگلے سبق میں بیان کیے جائیں گے۔

خلاصۂ سبق

کلمہ وہ لفظ ہے جو کسی مفرد معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ دو یا زیادہ کلمات کی باہمی ترکیب سے مرکب بنتا ہے، اور جب یہ مرکب مکمل مفہوم ادا کرے تو اسے کلام کہتے ہیں۔ کلمہ، مرکب اور کلام تین الگ نحوی اصطلاحات ہیں۔ ان کے فرق کو سمجھنا عربی جملوں کی ساخت پہچاننے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔